مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 9 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 9

/// /// میں رہ کر مسلمانوں کے حالات معلوم کئے۔۸۷۰اء وائٹ ہاؤس لنڈن میں کانفرنس منعقد ہوئی جس میں کمیشن مذکور کے نمائندگان کے علاوہ ہندوستان میں متعین مشنری کے پادری بھی دعوت خاص پر شریک ہوئے جس میں دونوں نے علیحدہ علیحدہ رپورٹ پیش کی۔جو کہ ” دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا کے نام سے شائع کی گئی۔جس کا اقتباس مندرجہ ذیل پیش کیا جاتا ہے:۔رپورٹ سربراہ کمیشن سرولیم ہنٹر مسلمانوں کا مذہباً عقیدہ یہ ہے کہ وہ کسی غیر ملکی حکومت کے زیر سایہ نہیں رہ سکتے اور ان کے لئے غیر ملکی حکومت کے خلاف جہاد کرنا ضروری ہے۔جہاد کے اس تصور سے مسلمانوں میں ایک جوش اور ولولہ ہے۔اور وہ جہاد کے لئے ہرلمحہ تیار ہیں۔ان کی کیفیت کسی وقت بھی انہیں حکومت کے خلاف ابھار سکتی ہے۔رپورٹ پادری صاحبان ”یہاں کے باشندوں کی ایک بہت بڑی اکثریت پیری مریدی کے رجحانات کی حامل ہے۔اگر اس وقت ہم کسی ایسے غدار کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں جو ظلی نبوت کا دعویٰ کرنے کو تیار ہو جائے تو اس کے حلقہ نبوت میں ہزاروں لوگ جوق در جوق شامل ہو جائیں گے۔لیکن مسلمانوں میں سے اس قسم کے دعوی کے لئے کسی کو تیار کرنا ہی بنیادی کام ہے۔یہ مشکل حل ہو جائے تو اس شخص کی نبوت کو حکومت کے زیر سایہ پروان چڑہایا جاسکتا۔ہم اس سے پہلے برصغیر کی تمام حکومتوں کو غدار تلاش کرنے کی حکمت عملی سے شکست 9