مذہب کے نام پر فسانہ — Page 10
دے چکے ہیں۔وہ مرحلہ اور تھا۔اس وقت فوجی نقطہ نظر سے غداروں کی تلاش کی گئی تھی۔لیکن اب جب کہ ہم برصغیر کے چپہ چپہ پر حکمران ہو چکے ہیں اور ہر طرف امن و امان بھی بحال ہو گیا ہے تو ان حالات میں ہمیں کسی ایسے منصوبہ پر عمل کرنا چاہئے جو یہاں کے باشندوں کے داخلی انتشار کا باعث ہو۔“ اقتباس از مطبوعہ رپورٹ کانفرنس وہائٹ ہاؤس لنڈن منعقدہ ۱۸۷۰ء دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا قارئین کرام :۔انگریز دشمن اسلام تھا۔گلیڈسٹون وزیر اعظم انگلستان نے پارلیمنٹ میں تقریر کی۔قرآن کریم ہاتھ میں لیکر کہا کہ جب تک یہ کتاب دنیا میں موجود ہے ہم اطمینان سے حکومت نہیں کر سکتے۔یہ کہہ کر بد بخت کافر نے کلام الہی کو زمین پر دے مارا۔قرآنی تعلیمات کی بناء پر مسلمان کے لئے جہاد ایک ایسا مقدس فریضہ اور محبوب مشغلہ تھا جس کے طفیل عرب کے بادیہ نشینوں نے قیصر و کسری کے تخت الٹ دیئے۔اس لئے سازش کی گئی کہ مسلمانوں میں کوئی غدار تلاش کر کے دعوی نبوت کرایا جائے اور وہ جہاد کو حرام اور انگریزی حکومت کی تابعداری کو فرض عین قرار دے۔قارئین کرام کا فرض ہے کہ وہ تلاش کریں کہ وہ شخص کون ہے جس نے ظلی نبوت کا دعویٰ کیا اور جہاد کو حرام قرار دیا۔انگریزی حکومت کی اطاعت کو فرض گرداننے میں ساری عمر گزار دی۔10