مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 75 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 75

///////// ////////////// خدائے ذوالعرش کا عملی جواب اس دعوئی پر اگست ۱۹۹۵ ء تک ۲۲ سال ہو چکے ہیں اس عرصہ میں تعلّی کرنے والوں کی خاک تک اڑ گئی ہے اور خدا نے ان کے دعاوی کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔مگر احمدیت کا قافلہ جس کا آغاز ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو صرف چالیس نفوس سے ہوا تھا افق سماء پر ستاروں کی طرح دنیا بھر میں جگمگا رہا ہے اور اس کی ضیا پاشی سے کروڑ سے زیادہ قلوب و اذہان بقعہ نور بنے ہوئے ہیں اور ہر طلوع کرنے والا سال اس کی تابانیوں میں حیرت انگیز اضافے کا موجب بن رہا ہے۔چنانچہ اس سال جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسہ برطانیہ کے موقع پر ۳۰ جولائی ۱۹۹۵ء کو جو خوش نصیب افراد جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے اور احمد یہ ٹیلی ویژن انٹر نیشنل کی وساطت سے حضرت امام جماعت احمدیہ کے دست مبارک پر بیعت سے مشرف ہوئے ان کی تعداد آٹھ لاکھ اکتالیس ہزار تین سو پچھیں ہے۔ان نو مبائعین میں البانیہ کے پنتالیس ہزار افراد بھی شامل ہیں جب سے دنیا بنی ہے ایسا ایمان افروز واقعہ بھی تاریخ عالم میں رونما نہیں ہوا۔برطانوی استعمار کا آفتاب تو ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا لیکن سلسلہ احمدیہ کا سورج پورے جلال اور تمکنت کے ساتھ پوری دنیا پر چمک رہا ہے اور خدا کی قسم وہ کبھی غروب نہیں ہوگا۔انشاء اللہ۔جماعت احمدیہ کے موجودہ امام سید نا حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ المسیح الرابع نے جلسہ سالانہ ۱۹۸۲ء پر فرمایا تھا۔یہ صدائے فقیرانہ حق آشنا پھیلتی جائے گی شش جہت میں سدا تیری آواز اے دشمن بدلوا دو قدم دور دو تین پل جائے گی 75