مذہب کے نام پر فسانہ — Page 55
///////// ////////// چاہئے۔جس کا عنوان یہ تھا۔A DANGEROUS FANATIC یعنی ایک خطر ناک مذہبی دیوانہ۔اس نوٹ میں حضرت بانی جماعت احمدیہ کا ذکر کرتے ہوئے گورنمنٹ کو زبر دست اختباہ کیا گیا کہ یہ مذہبی دیوانہ پولیس کی نگرانی میں ہے اس میں وہ تمام عناصر موجود ہیں جن کی ترکیب سے ایک خطر ناک مرکز بنا کرتا ہے اس کی باتوں میں ایک دبی ہوئی دہشت ہے۔وہ ایک سادہ آدمی نہیں ایک خطر ناک ہلالی ہے اور روز بروز طاقت پکڑ رہا ہے لہذا ہم پر فرض عائد ہو گا کہ مستقبل قریب میں پہلے سے زیادہ اس پر کڑی نگاہ رکھیں۔اس دور میں برٹش انڈیا کے عیسائی لیڈر انگریزی حکومت کی سی آئی ڈی اور انگریزی صحافت کے دوش بدوش جماعت احمدیہ کے مخالف علماء بھی پوری طرح سرگرم عمل رہے چنانچہ اول المکفرین مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا۔گورنمنٹ کو اس کا اعتبار کرنا مناسب نہیں اور اس سے پر حذر رہنا ضروری ہے ورنہ اس مہدی قادیانی سے اس قدر نقصان پہنچنے کا احتمال ہے جو مہدی سوڈانی سے نہیں پہنچا۔‘، ۷۲ اسی طرح مولوی محمد کرم الدین صاحب دبیر رئیس بھین ضلع جہلم نے برطانوی حکومت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف اکساتے ہوئے لکھا۔گورنمنٹ کو اپنی وفادار مسلمان رعایا پر اطمینان ہے اور گورنمنٹ کو خوب معلوم ہے کہ مرزا جی جیسے مہدی مسیح وغیرہ بننے والے ہی کوئی نہ 55