مذہب کے نام پر فسانہ — Page 25
///////// //////////////// ریاست حیدر آباد دکن ہنگامہ غدر میں اس ریاست نے برطانوی گورنمنٹ کی ایسی مردانہ وار حمایت کی کہ گورنر بمبئی نے ریزیڈنٹ کو لکھا کہ اگر نظام اس وقت باغی ہو جائیں تو پھر ہمارے پاس کچھ نہیں رہتا۔۵/اکتوبر ۱۸۶۱ ء کو برٹش گورنمنٹ کی طرف سے بیش بہا خدمات کے صلہ میں دس ہزار پاؤنڈ کے تحائف حضور نظام کی خدمت میں پیش کئے گئے اور انہیں بی سی ایس آئی کا خطاب دیا گیا اور ایک نئے عہد نامے کے مطابق پچاس لاکھ کا قرضہ نظام دکن کو معاف کیا گیا اور شولا پور را پچور دوآبہ کے اضلاع نظام کو واپس دیئے گئے۔یہ ساری تفصیل منشی دین محمد صاحب ایڈیٹر میونسپل گزٹ لاہور کے قلم سے یادگار در بار تاج پوشی صفحه ۴۳ تا ۴۶ میں موجود ہے۔”حیات عثمانی “ میں لکھا ہے۔اگر نظام حکومت انگریزی کی مدد نہ کرتا تو اس میں ذرہ بھی شبہ نہیں کہ انگریزی حکومت سخت خطرہ میں تھی۔شریف الطبع اور منصف مزاج یوروپین مصنفوں اور دوسرے انگریزوں نے صاف الفاظ میں اعتراف کیا کہ دولت آصفیہ نے اس زمانہ میں حکومت انگلشیہ کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو بچالیا اور بعض انگریزی حکام نے یہاں تک کیا کہ اگر نظام حیدرآباد ہمارے ساتھ نہ ہوتے تو ہندوستان میں انگریزی حکومت قائم نہ رہ سکتی۔25 66