مذہب کے نام پر فسانہ — Page 24
/////////// خدمات کے زیر عنوان لکھا ہے:۔زمانہ غدر میں نواب صاحب نے بارہ ہزار فوج زائد رکھ کر بارودسازی کے لئے بے شمار روپیہ خرچ کیا اور نہ صرف ضلع مراد آباد میں ہی بغاوت کے شعلوں کو فرو کیا بلکہ رام پور سے جہادیوں کی شرکت کو روک کر بریلی کے افسروں کے بچاؤ میں بھی سخت کوشش کی۔اور نینی تال کے انگریزوں کے لئے بطور مدد خرچ چار ہزار اشرفیاں اور کمبل و پار چات بھیجے۔مواضعات پیشی، چند وسی، سہنسپورسنبھل، حسن پورکو باغیوں سے بچا کر آخری دونوں مقاموں کے ٹھا کر دواروں کے مفسدوں کو بھی ان ہی کی فوج نے فرو کیا۔علاوہ بریں کئی یورپین حکام کے زن و بچوں کو اپنی حفاظت سے انگریزی کیمپ میں پہنچایا۔مراد آباد کے ایک ہنگامہ میں بھی اگر چہ ان کی فوج کے ۴۰ آدمی مارے گئے مگر پھر بھی وہاں نوابی فوج نے ہی امن قائم کیا۔اسی طرح امروہہ کے فساد سے جو بدنظمی پھیل گئی تھی۔اس کا بھی انتظام کیا۔علاوہ بریں نہ صرف روہیلکھنڈ کی نقل و حرکت بلکہ دہلی تک منصو بہ بازی مفسدان کی خبر رسانی کے لئے ہزاروں روپے خرچ کر کے بڑے بڑے انتظامات کئے۔چنانچہ جب ہنگامہ غدر فرو ہوا تو گورنمنٹ نے ان وفادار انہ خدمات کے صلہ میں ضلع مراد آبادو بریلی کے چند دیہات جمعی ایک لاکھ ۲۸ ہزار ۵۴۷ روپیه ۶ آنه نسلاً بعد نسل و بطناً بعد بطن علاوہ اس تین لاکھ بارہ سوروپے کے جو ان کو جمع مراد آباد سے وصول 66 ہوا تھا نواب صاحب کو دیئے۔“ 24