مذہب کے نام پر فسانہ — Page 28
معظمہ کے مندرجہ ذیل تین مفتیان عظام کے فتاویٰ بھی درج کئے۔جمال بن عبداللہ شیخ عمر لکھی۔احمد بن زینی دہلان الشافعی حسین بن ابراہیم مالکی۔ضمیمہ میں مولوی علی محمد لکھنوی۔مولوی عبدالحی لکھنوی۔مولوی فیض اللہ لکھنوی۔مولوی محمد نعیم لکھنوی۔مولوی رحمت اللہ لکھنوی۔مولوی قطب الدین دہلوی۔اور مولوی لطف اللہ رامپوری کا یہ متفقہ فتویٰ بھی شامل کیا کہ موجودہ حالات میں جب کہ عیسائی حکومت مسلمانوں کے حقوق کی محافظ ہے اس کے خلاف جہاد قطعی نا جائز ہے۔اس متفقہ فتوئی پر ۱۷ ربیع الثانی ۱۲۸۷ھ مطابق ۷ار جولائی ۱۸۷۰ء کی تاریخ ثبت تھی۔اسی ضمیمہ میں کلکتہ محمد ن سوسائٹی کی طرف سے مولوی کرامت علی صاحب کا فتاوی عالمگیری کی بناء پر یہ فیصلہ بھی درج کیا گیا کہ برٹش انڈیا کے حکمرانوں کے خلاف جہاد در حقیقت جہاد نہیں بغاوت ہے جس کی اسلام میں ہرگز اجازت نہیں۔۳۵ آٹھواں جھوٹ پمفلٹ میں بیان شدہ کہانی کے مطابق کمشن مذکور کے نمائندگان اور ہندوستان میں متعین مشنری کے پادریوں کی ۱۸۷۰ء میں وائٹ ہاؤس لندن میں کانفرنس منعقد ہوئی۔اس بیان سے پورے افتراء کی قلعی خود بخود کھل جاتی ہے۔کیونکہ وائٹ ہاؤس لنڈن میں نہیں امریکہ میں ہے جو ریاستہائے متحدہ کے صدروں کی سرکاری رہائش گاہ ہے اور واشنگٹن ڈی سی کے پنسلوینیا ایوینیو کی جنوبی جانب لافیٹ سکویر کے بالمقابل واقع ہے۔واشنگٹن کی اس قدیم ترین پبلک عمارت کی بنیاد ۱۷۹۲ء میں رکھی گئی۔۱۸۱۴ء میں اس کی دیواروں پر سفیدی کی سے گئی۔اس وقت سے اسے وائٹ ہاؤس کہا جانے لگا۔28