مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 15 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 15

حقیقت کے ساتھ ذرہ برابر تعلق نہیں۔سرسید احمد خان نے تحقیق تشخص کے بعد واضح لفظوں میں یہ حقیقت بیان کی کہ دلی میں جو جہاد کا فتویٰ چھپاوہ ایک عمدہ دلیل جہاد کی سمجھی جاتی ہے مگر میں نے تحقیق سنا ہے اور اس کے اثبات پر بہت دلیلیں ہیں کہ وہ محض بے اصل ہے۔میں نے سنا ہے کہ جب فوج نمک حرام میرٹھ سے دلی میں گئی تو کسی نے جہاد کے باب میں فتویٰ چاہا۔سب نے فتویٰ دیا کہ جہاد نہیں ہو سکتا۔اگر چہ اس پہلے فتوئی کی میں نے نقل دیکھی ہے مگر جب کہ وہ اصل فتویٰ معدوم ہے تو میں اس نقل کو نہیں کہہ سکتا کہ کہاں تک لائق اعتماد کے ہے۔مگر جب بریلی کی فوج دلی میں پہنچی اور دوبارہ فتویٰ ہوا جو مشہور ہے اور جس میں جہاد کرنا واجب لکھا ہے بلاشبہ اصلی نہیں۔چھاپنے والے اس فتویٰ نے جو ایک مفسد اور نہایت قدیمی بدذات آدمی تھا۔جاہلوں کے بہکانے اور ورغلانے کولوگوں کے نام لکھ کر اور چھاپ کر اس کو وافق دی تھی بلکہ ایک آدھ مہر ایسے شخص کی چھاپ دی تھی جو تیل ندر مر چکا تھا۔۱۵۷ دیو بندی عالم الحاج محمد عاشق الہی صاحب میرٹھی کی کتاب ”تذکرۃ الرشید سے ثابت ہے کہ دیوبند کے چوٹی کے علماء مثلاً مولانامحمد قاسم نانوتوی مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی حاجی امداد اللہ صاحب اور حافظ ضامن صاحب ۱۶ مفسدہ ۱۸۵۷ء کو بغاوت سمجھتے تھے اور وہ نہ صرف اس بغاوت سے علیحدہ رہے بلکہ سرکار انگریزی کے فرمانبردار اور دلی خیر خواہ کی حیثیت سے باغیوں کی سرکوبی میں نمایاں حصہ لیا اور حافظ ضامن صاحب نے تو سرکار انگریزی کے دفاع میں اپنی جان تک کا نذرانہ تک پیش کر دیا۔اس امر کے ثبوت کے لئے کتاب کے چند فقرات مطالعہ کیجئے۔لکھا ہے کہ:۔دد مئی ۵۷ ء کا وہ طوفان جس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔15