مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 88 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 88

۸۸ مذہب کے نام پرخون آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس نے جان بوجھ کر غلطی کی۔کیوں نہ ذمی بن کر رہا اور کیوں ایسے اجتماعی دین میں داخل ہوا جس سے نکلنے کا دروازہ اسے معلوم تھا کہ بند ہے۔لیکن اس شخص کا معاملہ ذرا مختلف ہے جس نے اسلام خود نہ قبول کیا ہو بلکہ مسلمان ماں باپ کے گھر میں پیدا ہونے کی وجہ سے اسلام آپ سے آپ اس کا دین بن گیا ہو۔ایسا شخص اگر ہوش سنبھالنے کے بعد اسلام سے مطمئن نہ ہو اور اس سے نکل جانا چاہے تو یہ بڑا غضب ہے کہ آپ اسے بھی سزائے موت کی دھمکی دے کر اسلام کے اندر رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔یہ نہ صرف ایک زیادتی معلوم ہوتی ہے بلکہ اس کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ پیدائشی مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اسلام کے اجتماعی نظام کے اندر - پرورش پاتی رہے۔اس شبہ کا ایک جواب اصولی ہے اور ایک عملی ہے۔اصولی جواب یہ ہے کہ پیدائشی اور اختیاری پیروؤں کے درمیان احکام میں نہ فرق کیا جاسکتا ہے اور نہ کسی دین نے کبھی ان کے درمیان فرق کیا ہے ہر دین اپنے پیروؤں کی اولاد کو فطرتاً اپنا پیرو قرار دیتا ہے اور ان پر وہ سب احکام جاری کرتا ہے جو اختیاری پیروؤں پر جاری کئے جاسکتے ہیں۔یہ بات عملاً بالکل ناممکن ہے اور عقلاً بالکل لغو ہے کہ پیروان دین یا سیاسی اصطلاح میں رعایا اور شہریوں کی اولاد کو ابتداء کفار یا اغیار (pliens) کی حیثیت سے پرورش کیا جائے اور وہ بالغ ہو جائیں تو اس بات کا فیصلہ ان کے اختیار پر چھوڑ دیا جائے کہ آیا وہ اس دین کی پیروی یا اس سٹیٹ کی وفاداری قبول کرتے ہیں یا نہیں جس میں وہ 66 پیدا ہوئے ہیں۔اس طرح تو کوئی اجتماعی نظام کبھی دنیا میں چل نہیں سکتا ہے ،، میں اس سوال کا فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیتا ہوں کہ مولانا کے اس مخصوص طرز استدلال سے عقل انسانی مطمئن ہو سکتی ہے یا نہیں۔میں ذاتی طور پر اس نتیجہ تک پہنچا ہوں کہ جب بھی وہ کسی بار یک مسئلہ کی فضاء میں قدم رکھتے ہیں تو ان کی نظر قابل رحم حد تک دھندلا جاتی ہے اور مختلف شکلوں اور تصاویر میں فرق نہیں کر سکتی۔ان کے اسلامی نظریہ ریاست پر جو دھند طاری ہے اور جس کی بناء پر لے مرتد کی سزا اسلامی قانون میں صفحہ ۷۶ ۷۷