مذہب کے نام پر خون — Page 51
۵۱ مذہب کے نام پرخون غیر معمولی نرمی کا سلوک کیا گیا اور صرف شہر بدر کرنے پر اکتفاء کی گئی اور بہر حال یہ امر یقینی طور پر ثابت ہے کہ وہ تلوار کے زور سے مسلمان نہیں بنائے گئے۔تیسرا بدقسمت یہودی قبیلہ بنوقریظہ ہے۔اس قبیلہ کی غداری باقی تمام قبیلوں سے زیادہ سنگین تھی کیونکہ اس وقت جبکہ جنگ احزاب کے موقع پر دل ہلا دینے والے خطرات نے مسلمانوں کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا اور مدینہ میں محصور قلیل التعداد مسلمانوں اور کفار کے عظیم حملہ آور لشکر کے درمیان صرف ایک تنگ خندق حائل تھی انہوں نے انتہائی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطرناک بدعہدی کی اور دشمن کے ساتھ خفیہ سازشیں کرنے لگے۔اگر کوئی شخص آج اس خطرہ کا کچھ تصور باندھنا چاہے تو اس کا صرف ایک ہی طریق ہے کہ قرآن کریم کی ان آیات کا مطالعہ کرے جن میں خود خدا تعالیٰ اپنے الفاظ میں اس کا نقشہ کھینچتا ہے:۔اذْ جَاءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَ مِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ إِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ القُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّونَ بِاللهِ الظُّنُونَ - هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَارًا شَدِيدًا (الاحزاب:۱۱، ۱۲) جب وہ دشمن ) تمہارے اوپر سے بھی ( حملہ کرتے ہوئے ) آئے اور نیچے سے بھی (یعنی بلندی کی طرف سے بھی اور ڈھلوان کی طرف سے بھی۔یا معنوی لحاظ سے جب تمہاری نجات کے سارے دروازے بند ہو گئے۔زمین بھی تنگ ہو گئی اور آسمان بھی ) اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل ( مارے دہشت کے ) گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔یہ تھا وہ مقام اور وہ وقت جبکہ مومن آزمائے گئے اور شدید زلازل کے جھٹکوں میں انہیں مبتلاء کیا گیا۔یعنی جس طرح خوفناک زلزلوں کے جھٹکوں کے وقت عمارتوں کی مضبوطی آزمائی جاتی ہے اور ان عمارتوں کے سوا جن کی دیواروں میں سیسہ پلایا گیا ہو یا فولادی بندھنوں سے مضبوط کی گئی ہوں اور وہ گہری بنیادوں پر مضبوط چٹانوں کی طرح قائم ہوں باقی تمام عمارتیں ان جھٹکوں کا شکار ہوکر پیوند خاک ہو جاتی ہیں۔اسی طرح مومنین کی اس عمارت کے لئے ایک دل ہلا دینے والی آزمائش کا دن تھا۔