مذہب کے نام پر خون — Page 50
مذہب کے نام پرخون قبائل ایسے بدعہد ، کمینہ فطرت اور دغا باز تھے کہ امن میں بھی مسلمانوں کو چین نہیں لینے دیتے تھے اور جنگ کے زمانے میں تو ان کی شرارتیں غیر مشکوک غداری میں بدل جاتی تھیں۔چنانچہ مسلمانوں سے دوستی کے معاہدہ کے باوجود اس وقت جبکہ مٹھی بھر مسلمان جنگ بدر میں حملہ آوروں سے برسر پیکار تھے۔قبیلہ بنوقینقاع نے مدینہ بلوہ کیا اور فساد برپا کیا اور سراسر جھوٹی اور سراسیمہ کرنے والی خبریں پھیلائیں۔آج بھی اس جرم کی سزا ہر رحمدل سے رحمدل حکومت کے نزدیک قتل کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتی خصوصاً اس معاہدہ کے پیش نظر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدنی دور کے پہلے سال ہی میں یہودسمیت مدینہ کی تمام اقوام سے کیا تھا۔یہ تمام غدار قتل کئے جانے کے سزا وار تھے۔سیرت ابن ہشام جلد اوّل ( مطبوعہ مطبع بولاق مصریہ ) کے صفحہ ۱۷۸ پر یہ معاہدہ درج ہے۔اس معاہدہ کی شرائط میں سے تین یہ تھیں :۔”جنگ کے دنوں میں یہودی مسلمانوں کے ساتھ مصارف میں شریک رہیں گے۔کوئی شخص اپنے معاہد کے مقابل پر مخالفانہ کارروائی نہیں کرے گا۔مدینہ کے اندر کشت و خون کرنا اس معاہدہ کرنے والی سب قوموں پر حرام ہوگا۔“ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے از راہ شفقت محض جلا وطنی کی سزا پر اکتفاء فرمائی۔میرا ایمان ہے کہ اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ بعد کے حملہ آوروں کے ساتھ مل کر یہ بدعہد یہود مسلمانوں کو اس سے بھی زیادہ نقصان پہنچا ئیں گے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یہ سزا بھی نہ دیتے اور بالکل معاف فرما دیتے بہر حال امر واقعہ یہ ہے کہ اس قبیلے کو باوجود غلبہ کے بزور شمشیر مسلمان نہیں بنایا گیا۔دوسرا یہودی قبیلہ جسے ارتکاب بغاوت پر اور اس جرم کی پاداش میں ، کہ انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زہر دے کر ہلاک کرنے کی کوشش کی ، جلا وطن کیا گیا، قبیلہ بنونضیر تھا۔چونکہ مسلمانوں کے خلاف شرارتوں میں اور عہد شکنی میں سارا قبیلہ شامل تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہلاک کرنے کی کوشش ایک منظم سازش کا نتیجہ تھی۔اس لئے دراصل یہ کینہ تو بھی عہد شکنی کے نتیجہ میں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقدام قتل کے جرم میں انصاف اور خود بائبل کے قانون کے مطابق بھی جو یہود کا قانون تھا، اپنی زندگی کے حق سے محروم ہو چکے تھے لیکن ان کے ساتھ بھی اس لحاظ سے