مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 302 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 302

مذہب کے نام پرخون مالی نقصان ہوا وہ اس قدر زیادہ تھا کہ اس کا اندازہ لگا ناممکن ہی نہیں ہے۔کیا اس درجہ بے حد و حساب نقصان کو مسیحیت کی عملی کارگزاری شمار کیا جائے یا پھر ہم مسیحیت کی قدر و قیمت اور عظمت کو ان ابتدائی مسیحیوں کے عمل و کردار کی روشنی میں پر کھیں جو ایک گال پر تھپڑ کھا کر مارنے والے کے سامنے اپنا دوسرا گال بھی پھیر دیا کرتے تھے۔یہ ابتدائی مسیحی کون تھے؟ وہی جنہیں درندوں کے سامنے زندہ پھینک کرموت کے منہ میں دھکیل دیا جاتا تھا یا جنہیں ان کے گھروں سمیت زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ان مصائب کو ان کے لئے جھیلنا آسان تھا لیکن یہ امر بے حد مشکل تھا کہ وہ تشد د کا جواب تشدّ دسے دیں۔مجھ سے اگر کوئی پوچھے تو میں مسیحیت کی قدر و قیمت اور عظمت کو پر کھنے کے لئے ابتدائی مسیحیوں کے عمل و کردار کا ہی انتخاب کروں گا۔یہ عجیب انصاف ہے کہ اگر کوئی مسلمان جنگ کرے تو مغرب میں اسے اسلامی دہشت گردی کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے لیکن جب کسی اور ملک میں جنگ و جدال کی کیفیت رونما ہو تو اسے سیاسی تنازعہ قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔آج کے اس ترقی یافتہ زمانہ میں آخر عدل کا یہ دہرا معیار کیوں رائج ہے اور اس کی وجہ جواز کیا ہے؟ ہر شخص حیرت زدہ ہو کر سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا کرسچین سویلیزیشن ( مسیحی تہذیب) کی بظاہر پرسکون سطح کے نیچے اسلام کے خلاف نفرت و حقارت کالا و ا کھول رہا ہے؟ کیا یہ سب کچھ مسلمان طاقتوں کے خلاف صدیوں پرانی مسیحی جنگوں کا ہی ایک نیا روپ ہے یا پھر یہ مستشرقین کی وہی پرانی زہر آلود شراب ہے جسے نئے پیالوں میں ڈال کر پیش کیا جا رہا ہے؟ یہ نظریہ کہ اسلام کو ( نعوذ باللہ ) تلوار کے زور سے پھیلا یا گیا انتہائی غلط اور قابل اعتراض ہے۔مسلمان حکومتوں کی جنگوں کو سیاست اور بین الاقوامی روابط کے مسلمہ اصولوں کے مطابق پر کھنا چاہیے نہ کہ مذہبی تعصب کی بنیاد پر۔تشدد کا بار بار پھوٹ پڑنا اس امر کی علامت ہے کہ معاشرہ اس مریض کی طرح ہے جو بیک وقت متعدد امراض کا شکار ہو۔آج مسلم دنیا حیران و پریشان اور سرگردان ہے کہ کس طرف رخ کرے اور کس سمت میں پناہ تلاش کرے۔عوام بہت سے امور کے بارہ میں مطمئن نہ ہونے کے باعث بے چینی اور بے اطمینانی کا شکار ہیں لیکن یہ وہ امور ہیں جن پر ان کا سرے سے کوئی کنٹرول