مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 303 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 303

مذہب کے نام پرخون نہیں ہے۔وہ اپنے بدعنوان لیڈروں یا بیرونی طاقتوں کے ایجنٹوں اور پٹھوؤں کے ہاتھوں میں مرده بدست زندہ کے مصداق ایک کھلونے کی طرح ہیں۔وہ چاہیں تو انہیں اپنے ساتھ لئے پھریں اور چاہیں تو زمین پر بیچ دیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ بہت سے مسلمان ملکوں کے لیڈر جب ظلم و تشدد پر اترتے ہیں تو اپنے ظالمانہ اقدامات کے حق میں سند جواز اسلام ہی میں سے ڈھونڈ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے زمانہ اقتدار میں ہوا۔خونریز انقلابات اسلامی فلسفہ حیات کے لئے بالکل اجنبی ہیں۔اس مخصوص فلسفہ حیات پر چلنے والے اسلامی ملکوں میں ایسے انقلابات کے لئے پاؤں جمانے کی کوئی جگہ نہیں ہوسکتی۔ایک مذہبی آدمی ہونے کی حیثیت میں اور ایک ایسی جماعت کا روحانی سر براہ ہونے کی حیثیت میں جس کے متبعین ایک صدی تک دہشت گردی اور ظلم و تشدد کا نشانہ بنے رہے ہیں میں ہر قسم اور ہر نوع کی دہشت گردی کی انتہائی پر زور مذمت کرتا ہوں کیونکہ اس بات پر میرا پختہ ایمان ہے کہ صرف اسلام ہی نہیں بلکہ کوئی بھی سچاند ہب خواہ اس کا کوئی بھی نام ہو خدا کے نام پر بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور ان کا خون بہانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔خدا سرا پا محبت ہے، خدا امن ہی امن ہے۔محبت سے کبھی نفرت جنم نہیں لے سکتی۔اور امن کبھی جنگ کی طرف دھکیلنے کا موجب نہیں بن سکتا۔