مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 293 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 293

۲۹۳ مذہب کے نام پرخون ہیں۔قبل اس کے کہ ہم یہ سمجھیں کہ تشدد کے استعمال کا یہ انوکھا تصور ہے کیا حالات کا احتیاط سے تجزیہ کرنا ضروری ہے تقریباً تمام مسلمان ملکوں کے ملاؤں میں تنگ نظری اور عدم رواداری کی طرف رجحان بہت بڑھ رہا ہے اور اس کے زیر اثر تشدد آمیز طرز عمل بہت زیادہ مقبول ہوتا جارہا ہے۔اس کی ذمہ داری سعودی عرب کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے۔وہ اپنے آپ کو پوری مسلم دنیا کا مرکز بنانے میں کوشاں ہے اور اس نے مذہب کی آڑ میں اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینے کا تہیہ کر رکھا ہے۔چونکہ اسے اسلام کے مقدس ترین شہروں ( مکہ اور مدینہ ) کا متولی ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے اس لئے یقیناً وہ اس پوزیشن میں ہے کہ وہ اس صورتِ حال سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا کر اپنی اہمیت اور اپنے اثر ورسوخ کو زیادہ سے زیادہ وسعت دینے کی کوشش کرے۔سعودیوں کے مذہبی فلسفہ کا ماخذ وہابیت ہے اور وہابیت وہ تحریک ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک کے محبت و مودت کے آئینہ دارا اسلام سے بڑھ کر زمانہ وسطی کے غیر روادارانہ اسلامی تصورات پر مبنی ہے۔سعودی اثر ورسوخ کا پھیلاؤ مرہون منت ہے تیل کی آمدنی سے حاصل ہونے والی بے انداز دولت کا اور دنیا بھر کے بنکوں میں جمع شدہ بے حد و بے حساب سرمائے کا۔سعودی عرب کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ اپنے بے حد و بے حساب سرمائے سے اسے جو سود حاصل ہوتا ہے اس کا ایک حصہ وہ مسلمان ملکوں کو مالی امدا دفراہم کرنے پر خرچ کرتا ہے لیکن اکثر و بیشتر یہ امداد ان ملکوں کی بیمار معیشت کو سنبھالا دینے پر خرچ نہیں کی جاتی بلکہ یہ خرچ کی جاتی ہے مسجدوں کی تعمیر اور ایسے دینی مدارس کے قیام پر جن پر سعودی چھاپ کے عالم تیار ہو کر نکلیں اور سعودی اثر ورسوخ کو پھیلانے اور وسعت دینے کی خدمت سر انجام دیں۔یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں بھی آپ کو سعودی امداد پانی کی طرح بہتی نظر آئے گی وہاں آپ مسلمان ملاؤں کے تنگ نظری اور عدم رواداری پر مبنی رویے اور طرزعمل کو خوب پنپتا اور پھلتا پھولتا دیکھیں گے۔جب عیسائی دنیا ان تنگ ملاؤں کو غیر اسلامی اقدار کی مذمت کرتے اور غیر مسلم حکومتوں کے خلاف جہاد جہاد کا شور ڈالتے دیکھتی ہے تو وہ یہ سمجھ بیٹھتی ہے کہ ان ملاؤں کی جہاد ! جہاد! کی پکار جلد ہی حالت جنگ میں تبدیل ہو کر ایک بھیانک روپ دھار لے گی لیکن ان