مذہب کے نام پر خون — Page 292
۲۹۲ مذہب کے نام پرخون یا بین بین چلنے والے باقی ماندہ افراد آگے آنے کی کوشش کریں، غلبہ پانے اور آگے آنے کے لئے جنگ زرگری کا چھڑنا یقینی بن جائے گا۔کوئی نہیں بتا سکتا کہ جنگ زرگری کا انجام کیا ہوگا اور یہ کہ ایران کے لئے ابھی اور کیا کچھ دیکھنا مقدر ہے۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ایران میں حالات کیا رُخ اختیار کریں گے وہی علام الغیوب ہے۔میں اہلِ ایران کے لئے صرف دعا ہی کر سکتا ہوں کہ ان کے مصائب و مشکلات کا دور جلد ختم ہو۔ان کے لئے ایک نئے اور پر امن دور کا آغاز ہو اور وہ ان کے لئے حقیقی خوش حالی کا دور ثابت ہو۔اہلِ ایران بہت بہادر ہیں۔قدرت نے انہیں اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ماضی میں بھی انہوں نے اپنوں اور غیروں کے ہاتھوں بہت دکھ اٹھائے ہیں اور اب بھی اٹھا رہے ہیں۔ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ حالیہ دور میں دکھ اٹھانے کے سوا ان کے ہاتھ اور کچھ نہیں آیا۔میری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اور جملہ مصائب و مشکلات سے انہیں نجات بخشے۔آمین اب ہم ایران میں آیت اللہ خمینی کے لائے ہوئے انقلاب کے ایک اور پہلو کی طرف آتے ہیں۔انہوں نے نہ صرف ایرانی مسلمانوں کے اندازِ زیست کو بدلنے کا بیڑا اٹھایا بلکہ اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ ہمسایہ ملکوں میں بھی ایسا ہی انقلاب لانے کی بھر پور کوشش کریں گے۔انہوں نے دنیائے اسلام پر یہ بات بھی واضح کی کہ وہ فلسطینیوں کی مدد کر نے اور اسرائیلی فوجوں کو شکست دینے کی جد و جہد میں زیادہ مضبوط اور موثر کردار ادا کریں گے۔ظاہر ہے کہ مسلمان ممالک اور اسرائیل میں سے کوئی بھی اپنے ہاں ایرانی انقلاب کو خوش آمدید کہنے پر آمادہ نہ تھا اس لئے پرامن اور قانونی ذرائع سے مسلم ممالک میں ایرانی انقلاب کو منتقل کرنا ممکن نہ ہوسکا اور ایران کو اس بارہ میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔اس میں شک نہیں کہ فلسطین کے معاملہ میں وہ ایک حد تک کامیابی سے ضرور ہمکنار ہوئے۔جیسا کہ میں پہلے بھی واضح کر چکا ہوں علاقہ میں کی جانے والی دہشت پسند سرگرمیاں (خواہ وہ اسلام کے خلاف کی گئی ہوں یا مغربی طاقتوں کے نمائندوں کو ان کا نشانہ بنایا گیا ہو ) اسلام کی رو سے درست قرار نہیں دی جاسکتیں کیونکہ اسلام دہشت پسند سرگرمیوں کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ان سرگرمیوں کو اگر سند جواز عطا کی تھی تو صرف اور صرف ایرانی انقلاب کے فلسفہ نے عطا کی تھی۔مسلم ممالک میں عسکری قوت اور طاقت کے استعمال کے تذکرے اکثر سننے میں آتے