مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 260 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 260

۲۶۰ مذہب کے نام پرخون آخرت میں اپنے قرب سے محروم کر دیتا ہے اور اس نے ان کے لئے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر چھوڑا ہے۔وہ لوگ جو مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی قصور کیا ہو تکلیف دیتے ہیں ان لوگوں نے خطر ناک جھوٹ اور کھلے کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر اٹھا لیا ہے۔سب سے متعلق قرآن مجید کی تعلیم بالکل واضح ہے۔قرآن مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ کافروں کے جھوٹے خداؤں (بتوں وغیرہ) کو بھی برا بھلا نہ کہیں۔اور پھر اس نے ایسے لوگوں کے لئے کوئی سزا مقرر نہیں کی جو رسول کی گستاخی اور توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ان کے لئے اللہ نے اپنے قرب سے محرومی کا عذاب مقدر کر چھوڑا ہے۔اب رہا یہ سوال کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے ساتھ کیا سلوک روارکھا جو آپ کی گستاخی اور اہانت کے مرتکب ہوئے اور جنہوں نے آپ کو اذیتوں پر اذیتیں پہنچائیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو رحمۃ للعلمین کے انتہائی بلند مرتبہ پر فائز فرمایا تھا اور آپ کو پوری نوع انسانی کے لئے اسوۂ حسنہ قرار دیا تھا۔ایسے لوگوں کے ساتھ آپ کا سلوک آپ کے اس رفیع الشان مقام کے عین مطابق تھا۔اس ضروری وضاحت کے بعد آئیے اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آپ نے رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا۔اس شخص نے آپ کی اہانت کرنے اور اپنے انتہائی قابل اعتراض طرز عمل سے آپ کو اذیت پہنچانے میں انتہا کر دی تھی۔غزوہ بنی المصطلق (۶ ہجری مطابق ۷ ۷۳ء) سے فارغ ہونے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہمراہیوں کے ساتھ چشمہ مریسیع کے قریب ٹھہرے ہوئے تھے۔وہاں مہا جرین اور انصار میں ایک ناخوشگوار جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا۔ہوا یوں کہ حضرت عمرؓ کا ایک ملازم جس کا نام حجاہ بن مسعود تھا انصار کے ایک حلیف شخص سنان و برا لجہنی ایک بات پر باہم الجھ پڑے۔بقول ابن اسحق جھگڑے نے جب طول پکڑا تو الجنی نے آواز دی يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ( یعنی اے گروہ انصار میری مددکو پہنچو )۔جاہ بھی بلند آواز میں پکارا يَا مَعْشَرَ المُهَاجِرِينَ ( یعنی اے مہاجرین کے گروہ میری مدد کرو)۔اس پر عبد اللہ بن ابی بن سلول بلا وجہ طیش میں آگیا۔اس وقت ایک نوجوان زید بن ارقم کے علاوہ کچھ اور