مذہب کے نام پر خون — Page 261
مذہب کے نام پرخون لوگ بھی اس کے ساتھ تھے۔معاملہ کو سلجھانے اور باہم صلح کرانے کی بجائے اُس نے کہا اچھا اب ان لوگوں ( یعنی مہاجرین ) کے حو صلے اس قدر بڑھ گئے ہیں! انہوں نے ہمارے وطن میں ہماری فوقیت کو متنازعہ بنایا اور ہمارے شہروں میں ہم پر ہی اکثریت اور طاقت حاصل کرنا چاہی۔ہم اہلِ مدینہ اور جلا بیپ قریش ( قلاش قریشیوں ) پر تو یہ مثل صادق آتی ہے کہ سمن كَلْبَكَ يَأْكُلَك ( یعنی اپنے کتے کو کھلا کھلا کر موٹا کرتا کہ وہ تجھے ہی پھاڑ کھائے )۔خدا کی قسم جب ہم یہاں سے مدینہ واپس پہنچیں گے تو جو سب سے زیادہ معزز ہے وہ ذلیل ترین شخص کو مدینہ سے نکال کر رہے گا۔پھر وہ اپنے لوگوں کے پاس گیا اور ان سے کہا یہ سب تمہارا اپنا کیا دھرا ہے۔تم نے انہیں ( یعنی مہاجرین کو ) اپنے علاقوں پر قابض ہونے دیا۔تم نے انہیں اپنے مکانوں، جائیدادوں اور مال و منال میں حصہ دار بنایا۔اگر تم اپنا ہاتھ کھینچ لو یعنی تم ان سے اپنی جائیدادیں اور اپنا مال واپس لے لو تو تم انہیں کسی اور جگہ کا رخ کرنے اور وہاں پناہ لینے پر مجبور کر سکتے ہو۔زید بن ارقم جو اس وقت اس کے ساتھ ہی کھڑا تھا اس کی یہ باتیں سن رہا تھا۔اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر الف سے کی تک سارا واقعہ آپ کو کہہ سنایا۔اس وقت حضرت عمرؓ بھی وہاں موجود تھے انہوں نے آنحضرت کی خدمت میں عرض کیا آپ تعباد بن بشر کو حکم دیں کہ وہ جا کر عبد اللہ بن ابی کو قتل کر دے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمر یہ کیسے ہوسکتا ہے ! لوگ کیا کہیں گے؟ وہ یہی کہیں گے کہ محمد خود اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرتا اور موت کے گھاٹ اتارتا ہے۔نہیں نہیں ، میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔آپ اس وقت تک دشمنوں سے تو فارغ ہو ہی چکے تھے آپ نے فرما یا لوگوں کو کوچ کا حکم دو۔اس صورتِ حال پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت فکر مند تھے۔قبائلی عصبیت کی بناء پر الجہنی کا انصار کو اپنی مدد کے لئے پکارنا اور جاہ کا اسی انداز میں بآواز بلند مہاجرین کو اپنی مدد کے لئے بلا نا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔اس واقعہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن کو یومِ بُعاث اور جنگ بسوس BASUS کی طرف پھیر دیا۔یہ جنگ چالیس سال تک جاری رہی تھی۔آپ کو فکر یہ لاحق ہوئی کہ اگر عبداللہ بن ابی اپنے منصوبہ میں کامیاب ہوجا تا تو انصار اور مہاجرین قدیم قبائلی جنگوں ابن ہشام غزوہ بنی مصطلق