مذہب کے نام پر خون — Page 244
۲۴۴ مذہب کے نام پرخون موقف کو مستر د کر دیا کرتے تھے اور اپنے اس انتہائی نامعقول موقف پر اڑے رہتے تھے کہ انہیں (یعنی انبیاء کو ہر گز یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ لوگوں سے ان کا مذہب تبدیل کرائیں۔وہ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اگر انبیاء اپنے طرز عمل اور تبلیغی جدو جہد سے باز نہ آئے تو پھر انہیں خود مرتد ہونے اور دوسروں کو مرتد کرنے کی سزا بھگتنے کے لئے تیار رہنا چاہیے اور وہ سزا انبیاء کے مخالفین کے نزدیک موت یا جلا وطنی کے سوا اور کوئی نہ تھی۔اپنے مخالفین کے اس ادعائے باطل کے خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عظیم الشان جد و جہد کی وہ جملہ انبیائے ماسبق کے طرز عمل اور جد و جہد سے پوری پوری مطابقت رکھتی تھی۔ایک معقول اور سمجھدار انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مقدس مشن کا جسے آپ نے زندگی بھر جاری رکھا کیسے انکار کر سکتا ہے اور مذکورہ بالا بنیادی اصول کے بارہ میں آپ کے نہایت مضبوط موقف کو کیسے چیلنج کر سکتا ہے۔زیر بحث حدیث ، قرآن مجید ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور متعدد مستند احادیث سے اس درجہ متناقض ہے کہ اسے جھٹلانے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔اس حدیث کا غیر معتبر ہونا اس قدر ظاہر وباہر ہے کہ اس بارہ میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ماخذوں اور راویوں کے قابل اعتماد ہونے کے معیار جس حدیث کے درست ہونے سے انکار کیا گیا ہے وہ بظاہر تو ائمہ احادیث بخاری ، ترمذی، ابوداؤد ، النسائی اور ابن ماجہ کے نزدیک مستند شمار ہونے کے قابل نظر آتی ہے کیونکہ یہ احادیث کے چھ مسلمہ مجموعوں میں سے پانچ مجموعوں میں شامل ہے لیکن اس کے مستند ہونے کا معاملہ اس سے آگے نہیں بڑھ پا تا بلکہ یہیں تک محدود ہوکر رہ جاتا ہے۔کسی حدیث کے مستند قرار پانے کے لئے صرف اتناہی کافی نہیں ہے کہ وہ احادیث کے کسی مستند مجموعے میں شامل ہے۔بعض اور بھی پہلے سے طے شدہ معیار ہیں جن پر کسی حدیث کا پورا اتر نا اس کے مستند ہونے کے لئے ضروری ہے۔ان میں سے سب سے اہم معیار یہ ہے کہ اسماء الرجال میں شامل مختلف مراحل کے درمیانی راویوں کی شہرت، ان کے چال چلن اور طرز عمل کا گہری نظر سے تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ایسے علمائے احادیث ہو گزرے ہیں جنہوں نے مذکورہ بالا امر کے مطالعہ اور تحقیق