مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 231 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 231

۲۳۱ مذہب کے نام پرخون لکھوا بھیجی جس میں اس امر کا ذکر ہے کہ ملک تو اللہ کا ہے اپنے بندوں میں سے وہ جس کو چاہتا ہے اس کا وارث کر دیتا ہے اور اچھا انجام متقیوں کے ہی ہاتھ رہتا ہے۔مسیلمہ نے اپنے دعوی نبوت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت حبیب بن زید کو پکڑ لیا۔پھر ان کا ایک ایک عضو کاٹ کر بہت اذیت ناک طریق پر ان کو قتل کیا اور اسی پر بس نہیں بلکہ ان کے جسم کے ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے انہیں نذر آتش کر دیا۔ارتداد کے لئے سزائے قتل کے حامی قتل کے اس بھیانک جرم کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ مسیلمہ کا ایک ہی جرم تھا کہ وہ مرتد ہو گیا تھا۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر اس نے خود ایک بے گناہ کے قتل کا ارتکاب نہ کیا ہوتا تو کیا محض ارتداد کی بناء پر اسے قتل کر دیا جاتا ؟ کیا قتل کے ارتکاب،سفاکی سے ایک ایک عضو کو کاٹنا اور فساد فی الارض کی پاداش میں اسے عدالتی کارروائی کا سزاوار نہیں ٹھہرایا گیا اور کیا انصاف کے تقاضے ان وجوہات کی بناء پر پورے نہیں کئے گئے؟ اس امر کی خفیف سے خفیف شہادت بھی موجود نہیں ہے کہ یہ سننے کے بعد کہ مسیلمہ نے آپ کی نبوت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محض اس بناء پر اسے قتل کئے جانے کا سزاوار ٹھہرایا ہو یا اپنے کسی صحابی کو اسے قتل کرنے کا حکم دیا ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسیلمہ کے خلاف سزا کا کوئی حکم صادر ہونے کی کوئی شہادت تلاش کرنے میں ناکامی کے بعد مولانا مودودی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مزعومہ خواہش کا سہارا لینا پڑا ہے۔اس خود ساختہ اور نام نہا دخواہش کے متعلق کہا یہ جاتا ہے کہ آپ نے اپنی وفات کے آخری لمحات میں اس خواہش کا اظہار فرمایا تھا کہ مسیلمہ کا خاتمہ کر دیا جائے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کسی خواہش کا اظہار فرمایا ہوتا تو یہ یقین کرنا ناممکنات میں سے ہے کہ خلیفہ رسول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی اس خواہش کو نظر انداز کر دیا اور آپ کی اس خواہش کے احترام میں مسیلمہ کے خلاف فوجی مہم کا آغاز نہ فرمایا ہوتا ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ آنحضور اس خواہش کا اظہار فرماتے اور حضرت ابوبکر اسے پورا کرنے میں تاخیر سے کام لیتے۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ حضرت ابوبکر نے اُس وقت تک کیوں انتظار کیا جب تک کہ مسیلمہ نے خود جارحیت کا آغاز نہ کیا اور مسلمانوں کے خلاف کھلی کھلی بغاوت پر نہ اتر آیا؟