مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 228 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 228

۲۲۸ مذہب کے نام پرخون ہے۔( ج ) ایک اور واقعہ جو بالعموم پیش کیا جاتا ہے مقیس بن صابہ کے قتل سے متعلق۔اس نے اپنے بھائی ہشام کی موت کا بدلہ لینے کے لئے ایک انصاری کو قتل کر دیا تھا حالانکہ اس کا بھائی ذی قرد کے غزوہ کے موقع پر ایک اتفاقی حادثہ کے نتیجہ میں مرا تھا۔اس واقعہ کے بعد مقیس مرتد ہو گیا۔اسے ایک انصاری کو قتل کے جرم میں موت کی سزادی گئی تھی۔مذکورہ بالا تینوں واقعات میں جن تین اشخاص کو قتل کی سزادی گئی تھی ان میں سے ہر شخص پہلے کسی اور کو قتل کر چکا تھا۔تینوں نے بے شک ارتداد اختیار کر لیا تھا لیکن اس امر سے کیسے آنکھیں بند کی جاسکتی ہیں کی وہ تینوں ہی قاتل تھے اور تینوں کو ان کے اس جرم کی پاداش کے طور پر قتل کیا گیا تھا نہ کہ ان کے ارتداد کی بناء پر۔اب ظاہر ہے قاتلوں کے خلاف قتل کی سزا کے نفاذ کو ارتداد کی طرف کیسے منسوب کیا جاسکتا ہے۔(1) جولوگ اس نظریہ کے حامی ہیں کہ ارتداد کی سزا قتل ہے وہ اس نظریہ کے ثبوت میں ایک حدیث پر بہت انحصار کرتے ہیں جس میں ارتداد اختیار کرنے کی پاداش کے طور پر ایک عورت کے قتل کئے جانے کا ذکر ہے۔اس حدیث کے بارہ میں اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ یہ حدیث انتہائی نا قابل اعتبار ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی ارتداد کی بناء پر کسی عورت کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا۔فقہ کی مشہور کتاب بدایہ میں مذکور ہے:۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارتداد کی پاداش میں عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا تھا کیونکہ اس بارہ میں تعزیری احکام کا اصل الاصول یہ ہے کہ سزا دہی کے عمل کو آخرت پر ہی چھوڑ دیا جائے کیونکہ اگر اس زندگی میں ارتداد کی کوئی سزا دی جائے تو ایسا کرنا خدا تعالیٰ کے اختیار میں مداخلت کے مترادف ہوگا۔یہ ایک ایسا مقدمہ ہوگا کہ جس میں اس امر کے متعلق باز پرس ہوگی جس کی باز پرس کرنا خدا تعالیٰ کا اپنا کام ہے۔اس اصول کو صرف اس وقت توڑنا جائز ہوگا جبکہ مقصد متعلقہ شخص کو ( جنگ کے دوران ) جارحیت جاری رکھنے سے روکنا ہو۔چونکہ عورتیں اپنی فطرت کے لحاظ سے جنگ کرنے کی اہل نہیں ہوتیں اس لئے ایک مرتد عورت کو سزا دینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔“