مذہب کے نام پر خون — Page 229
۲۲۹ مذہب کے نام پرخون عجیب بات ہے کہ مودودی صاحب جیسے عالم بھی ایسی ضعیف حدیثوں پر انحصار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے جنہیں بڑے بڑے نامور علماء مستر د کر چکے ہیں حالانکہ مودودی صاحب جیسے عالموں کے متعلق بالعموم سمجھا یہی جاتا ہے کہ ایسی ضعیف حدیثوں پر انحصار کرنے سے جو قباحتیں پیدا ہوتی ہیں ان سے وہ بخوبی آگاہ ہوں گے۔(ر) عبد اللہ بن سعد کا واقعہ ہم قبل ازیں صفحہ ۱۹۹ پر بیان کر چکے ہیں۔اگر ارتداد کی کوئی سزا مقرر ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس ارشاد کی رو سے کہ کوئی شخص بھی قانون سے بالا نہیں ہے اس کے نفاذ میں کسی رو رعایت کے کبھی روادار نہ ہوتے اور اس بارہ میں ہرگز بھی پس و پیش سے کام نہ لیتے۔آپ کے نزدیک خدائی قوانین کے نفاذ اور ان پر عمل درآمد کو بنیادی اہمیت حاصل تھی اور یہ کہ ان کے نفاذ سے سرمو انحراف کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔اندریں صورت اگر ارتداد کی سزا قتل تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان بن عفان کی سفارش پر عبد اللہ بن سعد کو کیسے معاف کر سکتے تھے۔صحابہ کرام رضوان الله علیهم اجمعین ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ ارتداد کی پاداش میں قتل کی سزا کے ہم یہ کی سزا حامیوں کو اپنے اس نظریہ کو درست ثابت کرنے میں نہ تو قرآن مجید سے کوئی مددملتی ہے اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے۔وہ اپنے اس نظریہ کی تائید میں قرآن مجید اور احادیث نبوی کا کوئی واضح اور ناقابل تردید حوالہ پیش کر ہی نہیں سکتے لیکن کئی اور ڈھب ہیں جنہیں اختیار کرنے کے وہ عادی ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ ان کے دیگر دلائل کا بھی تفصیل سے جائزہ لے کر یہ دکھایا جائے کہ ان کے دوسرے دلائل بھی اپنے اندر کوئی وزن نہیں رکھتے۔ان کے یہ دلائل براہ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی فیصلوں پر مبنی نہیں بلکہ آپ کے صحابہ کی آراء پر مبنی ہیں۔شروع میں ہی یہ بات واضح کر دینی ضروری ہے کہ صحابہ کرام کے تبصروں یا آراء کی ان کی ذاتی توضیحات سے بڑھ کر اور کوئی حیثیت نہیں ہے۔ان کو قرآن مجید کے احکام کی طرح واجب العمل قرار دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔زیادہ سے زیادہ انہیں ذاتی آراء ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔اس وضاحت کے بعد ہم سزائے قتل کے حامیوں کے دیگر دلائل کی طرف آتے ہیں۔