مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 214 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 214

۲۱۴ دفتر سے اس فتوی کی ایک نقل موصول ہوگئی جس پر دارالعلوم کے تمام اساتذہ کے دستخط ثبت تھے اور ان میں مفتی محمد شفیع صاحب کے دستخط بھی شامل تھے۔اس فتوے میں لکھا ہے کہ جو لوگ حضرت صدیق اکبر کی صحابیت پر ایمان نہیں رکھتے ، جولوگ حضرت عائشہ صدیقہ کے قاذف ہیں اور جو لوگ قرآن میں تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں وہ کافر ہیں۔مسٹرا براہیم علی چشتی نے بھی جنہوں نے اس مضمون پر وسیع مطالعہ کیا ہے انہوں نے بھی اس رائے کی تائید کی ہے ان کے نزدیک شیعہ اپنے اس عقیدہ کی وجہ سے کا فر ہیں کہ حضرت علی " نبوت میں ہمارے رسول پاک کے شریک تھے۔مسٹر چشتی نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کیا ہے کہ اگر کوئی سنی اپنا عقیدہ بدل کر شیعوں کا ہم خیال ہو جائے تو آیا وہ اس ارتداد کا مرتکب ہو گا جس کی سزا موت ہے؟ شیعوں کے نزدیک تمام سنی کا فر ہیں اور اہلِ قرآن یعنی وہ لوگ جو حدیث کو غیر معتبر سمجھتے ہیں اور واجب التعمیل نہیں مانتے متفقہ طور پر کافر ہیں اور یہی حال آزاد مفکرین کا ہے۔اس تمام بحث کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ شیعہ سنی ، دیو بندی، اہل حدیث اور بریلوی لوگوں میں سے کوئی بھی مسلم نہیں اور اگر مملکت کی حکومت ایسی جماعت کے ہاتھ میں ہو جو دوسری جماعت کو کا فر بجھتی ہے تو جہاں کوئی شخص ایک عقیدے کو بدل کر دوسرا اختیار کرے گا اُس کو اسلامی مملکت میں لاز مأموت کی سزا دی جائے گی اور جب یہ حقیقت مدنظر رکھی جائے کہ ہمارے سامنے مسلم کی تعریف کے معاملے میں کوئی دو عالم بھی متفق الرائے نہیں ہو سکے تو اس عقیدے کے نتائج کا قیاس کرنے کے لئے کسی خاص قوت متخیلہ کی ضرورت نہیں۔اگر علماء کی پیش کی ہوئی تعریفوں میں سے ہر تعریف کو معتبر سمجھا جائے پھر انہیں تحلیل و تحویل کے قاعدے کے ماتحت لایا جائے اور نمونے کے طور پر الزام کی وہ شکل اختیار کی جائے جو گلیلیو کے خلاف انکیو زیشن کے فیصلے میں اختیار کی گئی تھی تو ان وجوہ کی تعداد بے شمار ہو جائے گی جن کی بناء پر کسی شخص کا ارتداد ثابت کیا جاسکے لیے ،، ے رپورٹ تحقیقاتی عدالت برائے فسادات پنجاب اردو ایڈیشن صفحه ۲۳۶، ۲۳۷