مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 205

۲۰۵ مذہب کے نام پرخون بلکہ کسی معاہدے کی خلاف ورزی یا نقض عہد کے ذریعہ جرم کی نوعیت اور اس کی شدت میں اضافہ کا ہونا ضروری ہے۔ایک بالکل مختلف مکتب فکر کے عالم دین ابی الحدید نے نہج البلاغہ کی تفسیر میں معاملہ کو یہ کہہ کر صاف کر دیا۔جن قبائل نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا وہ مرتد نہیں تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے تو انہیں استعارہ مرتد کہا تھا لے،، مستشرقین میں سے ویل ہاؤسن WELL HAUSEN کے نزدیک ردّہ کی تحریک مدینہ کی لیڈرشپ کے خلاف بغاوت کی حیثیت رکھتی تھی۔اس میں اسلام کے خلاف بغاوت کا عنصر شامل نہ تھا۔اکثر قبائل ٹیکس ادا کئے بغیر اللہ کی عبادت جاری رکھنا چاہتے تھے۔کیتانی CAETNI نے بھی ویل ہاؤسن سے اس امر میں اتفاق کیا ہے۔وہ کہتا ہے رڈہ تحریک ارتداد نہیں تھی بلکہ ان لڑائیوں کا تعلق خالصہ سیاست سے تھا۔ویل ہاؤسن اور کیتانی کی پیروی کرتے ہوئے بیکر BECKER جس نتیجہ پر پہنچا ہے وہ خود اس کے اپنے الفاظ میں یہ ہے:۔محمد کی اچانک وفات نے مرکز گریز رجحانات کو ایک نئی تقویت پہنچائی۔اس ساری تحریک کی اصل نوعیت اگرچہ اس دور کے معاصرین کی نگاہوں سے پوشیدہ تھی لیکن وہ ایک مؤرخ کے ذہن میں بڑی شدت سے آئے بغیر نہیں رہتی۔الرڈہ کی علیحدگی پسند تحریک مرکزی قیادت کے لئے ایک ناگزیر ضرورت کو جنم دینے کا موجب ہوتی تھی اور اس ناگزیر ضرورت نے مدینہ کی ریاست کو ایسی زبر دست قوت سے مالا مال کر دکھایا تھا کہ جس کے آگے کسی مخالف قوت کا ٹھہر نا ممکن نہ تھا۔اگر ناگزیر ضرورت مدینہ کی ریاست کو ناقابل تسخیر قوت سے مالا مال نہ کر دکھاتی تو پورا عرب مخصوص علاقائی جزئیات کی دلدل میں غرق ہو کر رہ جاتا۔ردّہ کے خلاف لڑائی دراصل مرتدوں کے خلاف لڑائی نہ تھی کیونکہ قبائل کو اسلام پر اعتراض نہ تھا ، اعتراض تو انہیں اس خراج (یا ٹیکس ) پر تھا جو مدینہ کو ادا کیا جاتا تھا۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو یہ فی الحقیقت عرب پر سیاسی غلبہ کی جنگ تھی ہے ،، عبدالحمید هبت اللہ ابن الحدید شرح نہج البلاغہ ایڈیشن محمد ابوالفضل ابراہیم ( قاہر ۱۹۵۶۰ تا ۶۴) جلد ۸ صفحه ۸۷ سی۔ایچ بیکر کی مذکورہ کتاب صفحہ ۳۳۵