مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 201 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 201

مذہب کے نام پرخون میں شامل تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب کو اس وقت رستہ میں جالیا تھا جب آپ مکہ سے مدینہ تشریف لے جارہی تھیں۔الحویرث نے حضرت زینب کے اونٹ کا تنگ کاٹ دیا جس کی وجہ سے آپ نیچے آگریں۔آپ حاملہ تھیں گرنے کی وجہ سے آپ کا حمل ضائع ہو گیا اور آپ کو مکہ واپس جانا پڑا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی لوگوں کو اس حکم کے ساتھ مکہ بھجوایا کہ اگر ہبار بن الاسود یا الحویرث بن نقیذ کہیں ملیں تو انہیں قتل کر دیا جائے لے لیکن الحویرث ان کی زد میں آنے کے باوجود بیچ نکلا۔ایک اور اطلاع کی رو سے ہشام نے لکھا ہے کہ حضرت عباس بن عبد المطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیوں حضرت فاطمہ اور حضرت ام کلثوم کو ایک اونٹ پر سوار کر کے انہیں مکہ سے مدینہ لے جارہے تھے۔الحویرث نے ان کے اونٹ کو اس طرح بھگایا کہ دونوں صاحبزادیاں نیچے آگریں۔بالآخر حضرت علی نے اسے قتل کیا ہے۔مقیس بن صبابہ کا واقعہ یہ ہے کہ وہ مکہ سے مدینہ آیا۔اس نے کہا میں تم لوگوں کے پاس ایک مسلمان کی حیثیت سے آیا ہوں اور اپنے بھائی کے قتل کے قصاص کا طالب ہوں۔اس کے بھائی کو ایک انصاری نے غلطی سے قتل کر دیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مقیس کو اس کے بھائی ہشام کے قتل کا خوں بہا ادا کر دیا جائے۔خوں بہا لینے کے بعد وہ کچھ عرصہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتار ہالیکن موقع ملتے ہی اس نے اپنے بھائی کے قاتل کو قتل کر ڈالا اور پھر ارتداد اختیار کر کے وہاں سے بھاگ نکلا اور مکہ جا پہنچا ہے۔بعد میں مقیس کو تعمیلہ بن عبد اللہ نے ایک انصاری کو جان سے مار دینے کے جرم میں قتل کیا۔وہ دوہرے جرم کا مرتکب ہوا تھا۔اس نے اپنے بھائی کے قتل کا خوں بہا وصول کر لیا تھا اس کے باوجود اس نے اپنے بھائی کے قاتل کو مارڈالا۔اے ابن ہشام کی کتاب سیرۃ رسول اللہ صفحہ ۴۶۹،۴۶۸ ابن ہشام کی کتاب سیرۃ رسول اللہ صفحہ ۸۱۹ سے ابن ہشام کی کتاب سیرۃ رسول الله - الزرقانی شرح مواہب اللہ نیہ ( قاہرہ ۱۳۲۵ھ ) جلد دوم صفحہ ۳۱۵ نیز دیکھئے حضرت مولوی شیر علی کی کتاب قتل مرتد اور اسلام (امرتسر ۱۹۲۵ء) صفحه ۱۱۹ ابن ہشام کی کتاب سیرۃ رسول اللہ صفحہ ۷۲۸ ه ابن ہشام کی کتاب سیرۃ رسول اللہ صفحہ ۸۱۹