مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 199 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 199

۱۹۹ مذہب کے نام پرخون کی جائے جو ان کی راہ میں مزاحم ہوں۔مندرجہ ذیل مجرم اس حکم سے مستثناء تھے۔ان کے بارہ میں آپ نے یہ حکم دیا تھا کہ وہ جہاں بھی ملیں حتی کہ اگر وہ خانہ کعبہ کے پردوں کے پیچھے بھی چھپے ہوئے ہوں انہیں قتل کر دیا جائے لے۔ا۔عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ۲، ۳، ۴۔عبد اللہ بن خطل ( جو بنی تمیم ابن غالب کا آدمی تھا ) اور اس کی گانے بجانے اور ناچنے والی دو باندیاں۔وہ دونوں اسلام کے خلاف ہجویہ اشعار گا گا کر لوگوں کو سنایا کرتی تھیں۔ان میں سے ایک کا نام فرئئی تھا۔دوسری باندی کا نام ابن اسحق نے درج نہیں کیا۔۵ - الحویرث بن نفیذ بن وہب بن عبد بن قصی مقیس بن صبابہ ے۔سارہ۔یہ خاندان بنی عبد المطلب کے ایک شخص کی لونڈی تھی۔عکرمہ بن ابو جہل ہے۔ان میں سے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبین وحی میں سے ایک تھا وہ مرتد ہو گیا اور غداری کا مرتکب ہو کر مدینہ سے بھاگ نکلا اور کفار مکہ سے جاملا۔چونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی املا کر دہ وحی الہی کو ضبط تحریر میں لاتا تھا اور اس لحاظ سے اسے بہت قابل اعتماد حیثیت حاصل تھی اس لئے اس کی غداری کی وجہ سے قریش مکہ کے ذہنوں میں وحی الہی کے مستند ہونے کے متعلق شکوک و شبہات کا پیدا ہونا لازمی تھا۔اس لحاظ سے اس کا غداری کا جرم کوئی معمولی جرم نہ تھا۔جب فتح مکہ کے بعد مکہ میں امن بحال ہو گیا تو اس کے رضاعی بھائی عثمان بن عفان نے اس کی طرف سے بیچ میں پڑ کر اس کے لئے جان بخشی کی سفارش کی۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف فرما دیا ہے۔اگر ارتداد کی کوئی قرآنی سزا مقرر ہوتی تو آپ ابن ہشام کی کتاب سیرۃ رسول اللہ صفحہ ۸۱۸ ابن ہشام کی کتاب سیرۃ رسول اللہ صفحہ ۸۱۹ سے ابن ہشام کی کتاب سیرۃ رسول اللہ صفحہ ۸۱۸، ۸۱۹