مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 198 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 198

۱۹۸ مذہب کے نام پرخون دکھا سکتا ہے۔اگر دین سے پھر جانے کی سزا موت ہو تو ایک مرتد بار بار ایمان لانے اور بار بار اس سے پھر جانے کی عیاشی کا کیسے متحمل ہو سکتا ہے؟ اور پھر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ایک شخص جسے ارتداد اختیار کرنے کی بناء پر موت کی سزا دے دی گئی ہو اس کے لئے تو یہ ممکن ہی نہیں رہتا کہ وہ مرنے کے بعد پھر ایمان لائے اور پھر اس سے منکر ہو جائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر عمل کے پیچھے خدائی تصرف کار فرما ہوتا تھا۔جس طرح آپ نے خدائی احکام پر عمل کر کے دکھایا اسے سنت کہتے ہیں۔سنت کو شریعت کے دوسرے اہم ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔شریعت کے اس اہم ماخذ یعنی سنت کی رو سے بھی اسلام ترک کر کے اس کی بجائے کوئی اور دین اختیار کرنے کی کوئی سزا نہیں ہے۔جن لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی سزادی ، سیرت اور احادیث کی کتب میں ان کے نام محفوظ ہیں اور ان لوگوں کے نام بھی محفوظ ہیں جنہوں نے آپ کی زندگی میں اسلام ترک کر کے ارتداد اختیار کیا۔اسی ضمن میں ایک بدو ( یعنی ایک صحرانشین عرب باشندہ) کے متعلق لکھا ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کر کے اسلام میں داخل ہوا۔ابھی وہ مدینہ میں ہی تھا کہ بخار میں مبتلا ہونے کی وجہ سے بیمار ہو گیا۔بیماری سے گھبرا کر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ اسے بیعت کے عہد سے آزاد کر دیں۔اُس نے وقفہ وقفہ سے تین دفعہ یہ درخواست کی اور تینوں دفعہ اُس کی یہ درخواست منظور نہ ہوئی۔آخر وہ خود ہی مدینہ سے چلا گیا اور کسی نے اس کا بال بھی بیکا نہ کیا۔اس کے چلے جانے کا ذکر سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا مدینہ تو ایک بھٹی کی طرح ہے جو زر خالص سے میل کچیل اور فضلہ کو دور کر دیتی ہے یعنی زر خالص باقی رہ جاتا ہے اور میل کچیل کے خود بخو دا لگ ہوجانے سے اسے پھینک دیا جاتا ہے۔ابن اسحق نے بیان کیا ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں داخل ہوتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لشکر کے امیروں اور سرداروں کو ہدایت فرمائی تھی کہ صرف اُن لوگوں سے ہی جنگ لے صحیح البخاری (مطبوعه قاهره جلد اول کتاب ۳