مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 196

۱۹۶ مذہب کے نام پرخون فردم بن عمرو، کعب بن اشرف، رافع بن ابی رافع ، کعب کا حلیف حجاج بن عمر و ، ربیع بن الربيع بن ابی الحقیق اور کنانہ بن الربیع بن ابی الحقیق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا اے محمد ! آپ جس قبلہ پر تھے اُس سے کس چیز نے آپ کو پھیر دیا، آپ کا دعویٰ تو یہ ہے کہ آپ ملت ابرا ہیمی اور دینِ ابراہیمی پر ہیں ، جس قبلہ پر تھے اس پر لوٹ آئیں ہم آپ کی پیروی کریں گے اور آپ کو سچا مان لیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ آپ کو دین حق سے برگشتہ کر دینا چاہتے تھے۔چنانچہ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِى كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللهُ (البقرة : ۱۴۴) ہم نے اس قبلہ کو جس پر تو پہلے قائم تھا صرف اس لئے مقرر کیا تھا تا کہ ہم اس شخص کو جو اس رسول کی فرمانبرداری کرتا ہے اس شخص کے مقابل پر جو ایڑیوں کے بل پھر جاتا ہے ایک ممتاز حیثیت میں جان لیں اور یہ امر ان لوگوں کے سوا جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے دوسروں کے لئے ضرور مشکل ہے۔“ تحویل قبلہ کے وقت ایڑیوں کے بل پھر جانے والے یعنی ارتداد اختیار کرنے والے ان لوگوں کے لئے قرآن مجید نے کوئی سزا مقرر نہیں کی اور تاریخ میں بھی کسی ایسے مرتد کا کوئی ذکر نہیں ملتا جسے تحویل قبلہ کے بعد ارتداد کی بناء پر کوئی سزا دی گئی ہو۔سورۃ آل عمران ۲ ہجری مطابق ۶۲۴ عیسوی میں بدر کی فتح کے بعد نازل ہوئی تھی۔اس سورۃ کی مندرجہ ذیل دو آیات میں مدینہ کے بعض یہودیوں کے مرتد ہو جانے کا ذکر آتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- (1) ياهل الكِتبِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقِّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُونَ الْحَقِّ وَ اَنْتُم تَعلَمُونَ - (ال عمران: ۷۲) رووو ↓ ابن ہشام کی کتاب سیرۃ رسول اللہ صفحہ ۳۸۱