مذہب کے نام پر خون — Page 195
۱۹۵ مذہب کے نام پرخون ” جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبد اللہ بن ابی ابن سلول کی میت کے قریب آکر کھڑے ہوئے اور نماز جنازہ پڑھانے لگے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ دشمن خدا کی نماز جنازہ پڑھا رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سن کر مسکرائے اور پھر فرمایا عمر! میرے پاس سے ہٹ کر پیچھے ہو جاؤ، مجھے نماز پڑھانے یا نہ پڑھانے دونوں کا اختیار دیا گیا ہے اور میں نے نماز پڑھانے کو پسند کیا ہے۔مجھے کہا گیا ہے چاہیں تو ان کے لئے معافی کی درخواست کریں اور چاہیں تو نہ کریں، اگر ان کے لئے ستر بار بھی معافی کی درخواست کی تو میں انہیں معاف نہیں کروں گا۔اگر میں جانتا کہ ستر سے زیادہ مرتبہ دعائے مغفرت کروں تو اسے معاف کر دیا جائے گا تو میں ستر سے زیادہ مرتبہ بھی اس کے لئے دعائے مغفرت کرتا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنازے کے ساتھ تشریف بھی لے گئے اور اس وقت تک وہاں ٹھہرے رہے جب تک کہ اسے دفن نہ کر دیا گیال ، اس بات کا امتحان کہ دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر جائز نہیں اس امر میں مضمر ہے کہ ہر شخص مذہب تبدیل کرنے میں آزاد ہو۔اس بارہ میں یک طرفہ آزادی، آزادی نہیں کہلا سکتی۔یک طرفہ آزادی سے مراد یہ ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کی تو آزادی ہو لیکن اسے ترک کرنے کی آزادی نہ ہو۔قرآن مجید میں ارتداد کا براہ راست ذکر دس مقامات پر کیا گیا ہے۔ایک تو اس کا ذکر سورۃ النحل میں ہے جو ایک مکی سورۃ ہے۔باقی نو بار اس کا مدنی سورتوں میں ذکر آتا ہے۔ان جملہ آیات میں سے کسی ایک آیت میں بھی اس بارہ میں خفیف سا اشارہ بھی نہیں ملتا کہ دین سے اُلٹے پاؤں پھر جانے والوں کے لئے موت کی سزا مقرر ہے۔ارتداد کے متعلق واضح ترین بیانوں میں سے ایک بیان سورۃ البقرہ کی آیت ۱۴۳ میں درج ہے یروشلم سے مکہ کی جانب تحویل قبلہ کا واقعہ ۲ ہجری میں پیش آیا۔اس بارہ میں ابن اسحق نے تحریر کیا :- ” جب قبلہ کی تحویل شام کی سمت سے کعبہ کی سمت ہوئی تو یہود مدینہ میں سے رفاعہ بن قیس، ↓ ابن ہشام کی کتاب سیرۃ رسول اللہ صفحہ ۹۲۷