مذہب کے نام پر خون — Page 183
۱۸۳ کو ظلم کی برچھی سے تم سینہ و دل برمانے دو مذہب کے نام پرخون یہ درد رہے گا بن کے دوا۔تم صبر کرو وقت آنے دو جب سونا آگ میں پڑتا ہے تو کندن بن کے نکلتا ہے پھر گالیوں سے کیوں ڈرتے ہو دل جلتے ہیں جل جانے دو تم دیکھو گے کہ انہی میں سے قطرات محبت ٹپکیں گے بادل آفات و مصائب کے چھاتے ہیں اگر تو چھانے دو پس آفات و مصائب کے بادل آئے اور چلے گئے۔اُن کی بجلیاں ہمیں جلا نہ سکیں بلکہ قطرات محبت پڑکا کر چلی گئیں۔یہ بادل پھر بھی آتے رہیں گے اور چھاتے رہیں گے مگر ہمیشہ یہ ہمیں اپنی بجلیوں سے بے خوف قطرات محبت کی انتظار میں آنکھیں بچھائے ہوئے پائیں گے اور وہ دن بہت دور نہیں کہ یہ قطرات محبت ایسے برسیں گے کہ سب کدورتیں دھل جائیں گی تب رحمت کے آسمانی پانی سے جل تھل ایک ہو جائیں گے اور اس رحمت کے پانی پر خدا کا عرش پھر سے قائم ہوگا!