مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 182 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 182

۱۸۲ مذہب کے نام پرخون خطوط سے مکۃ رہونے لگتی تھی۔احمدی ماں باپ نے یہ سب کچھ دیکھا اور اپنے بچوں کے زخم بھی اپنے سینوں پر کھائے مگر ان کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی! آخر یہ حیرت انگیز ماجرا کیوں کر گزرا اور یہ عظیم الشان صبر کی طاقت انہوں نے کہاں سے پائی ؟ وہ کون سا مستحکم یقین تھا جو ان آڑے وقتوں میں اُن کے دلوں کا سہارا بن گیا ؟ اگر وہ دروغ گو اور فتنہ پرداز اور جھوٹے اور دقبال تھے۔اگر احمدیت ایک دکانداری تھی اور یہ سب سلسلہ انگریز کی غلامی اور دنیا کی لالچ کی خاطر قائم کیا گیا تھا تو اس پیغام کی خاطر دنیا کی ہر لالچ کو انہوں نے کیسے ٹھکرا دیا اور اپنے اموال اپنی آنکھوں کے سامنے کیسے لٹتے دیکھے؟ اپنی جان اور عزت کے لئے ہر خطرہ کیونکر مول لے لیا اور کیوں انہوں نے غیر متزلزل عزم اور صبر کے نمونے دکھائے جن کی توفیق صرف صادق اور راستباز کو عطا ہوتی ہے؟ اِس کی وجہ در حقیقت وہی وجہ تھی جس کا ذکر کرتے ہوئے بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام فرماتے ہیں:۔قوم کے ظلم سے تنگ آ کے مرے پیارے آج شور محشر ترے کوچہ میں مچایا ہم نے کافر و ملحد و دجال ہمیں کہتے ہیں نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے اور اُن خطرناک دنوں میں بھی ہمارے دل اس یقین سے پُر تھے کہ آخر ایک دن محبت کو نفرت پر فتح نصیب ہو کر رہے گی۔یہ بگڑے ہوئے تیورضرور بدلیں گے اور یہ روٹھے ہوئے بھائی ضرور منیں گے، جذ بہ دل آخر کام کرے گا اور اخلاق کی کشش انہیں بہر حال ہمارے سینوں کی طرف کھینچ لائے گی۔ہمارے کانوں میں امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کا یہ سکینت بخش پیغام نغمہ ریز تھا اور آج بھی ہے کہ :-