مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 177 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 177

122 مذہب کے نام پرخون قیاس کرنے کے لئے کسی خاص قوت متخیلہ کی ضرورت نہیں۔اگر علماء کی پیش کی ہوئی تعریفوں میں سے ہر تعریف کو معتبر سمجھا جائے پھر انہیں تحلیل و تحویل کے قاعدے کے ماتحت لایا جائے اور نمونے کے طور پر الزام کی وہ شکل اختیار کی جائے جو گلیلیو کے خلاف ان کو یزیشن کے فیصلے میں اختیار کی گئی تھی تو ان وجوہ کی تعداد بے شمار ہو جائے گی جن کی بناء پر کسی شخص کا ارتداد ثابت کیا جا سکے لے “ پس ان حالات کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ اگر ان مسلمان فرقوں میں سے کسی ایک کے علماء کے ہاتھ میں اقتدار آجائے تو باقی تمام فرقوں کے افراد کا قتل عام جائز قرار نہیں دیا جائے گا۔یقیناً ایسا ہی ہوگا مگر اس فرق کے ساتھ کہ اُس وقت کفر وارتداد کے فتوے انفرادی طور پر شائع ہونے کی بجائے حکومت وقت کے بلیٹینز (BULLETINS) کی صورت میں شائع ہوا کریں گے یا وزراء کی پریس کانفرنس میں شاید ان کا اعلان کیا جائے اور یہ تمام فتوے یکطرفہ ہوں گے اور کسی مخالف عقیدہ کے عالم کو یہ حق نہ ہو گا کہ مسلمان حکومت کے کسی عالم کے خلاف فتویٰ جاری کر سکے بلکہ فتویٰ کا کیا سوال اُس کے لئے تو اپنی جان عزیز بچانا بھی ناممکن ہوگا سوائے اس کے کہ تقیہ سے کام لے اور اگر وہ ایسا ہی راستی پسند ہے کہ منافق بن کر رہنا نہیں چاہتا بلکہ جس چیز پراب ایمان لایا ہے اس کی پیروی میں صادق ہونا چاہتا ہے تو اپنے آپ کو سزائے موت کے لئے کیوں پیش نہیں کرتا ؟“ بلیٹینز کی سرگرمی کے ساتھ ساتھ گلوٹینز (گردن اڑانے کا ایک آلہ) کی حرکت بھی تیز تر ہوتی چلی جائے گی اور دھڑا دھڑ سر دھڑ سے جدا ہونے لگیں گے۔اور جیسا کہ ہر ایسے تشد د کے دور میں ہوا کرتا ہے اُن راستی پسندوں کے سوا بھی جو منافق بن کر زندہ نہیں رہنا چاہتے اور گیدڑ کی سوسالہ زندگی پر شیر کی نصف گھنٹہ کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو ارتداد کے الزام میں ماخوذ کئے جائیں گے یعنی وہ لوگ جن کے دشمن انہیں حکومت وقت کے ہاتھوں مروانے کے لئے اُن پر کفر کے الزام لگا ئیں گے ( جیسا کہ پہلے بھی لگتے آئے ہیں اور آج بھی لگ رہے ہیں ) اور عدالتوں میں تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۲۳۶، ۲۳۷