مذہب کے نام پر خون — Page 178
۱۷۸ مذہب کے نام پرخون کثرت کے ساتھ حلفیہ گواہ پیش ہوا کریں گے کہ فلاں ابن فلاں نے بریلوی یا دیو بندی یا مودودی عقائد کے خلاف (جس کسی کی بھی حکومت ہو ) یہ یہ کفر بکے تھے۔چنانچہ ایسے ملزمین کے انکار پر لازماً انہیں پولیس کی تحویل میں مزید تحقیق کے لئے دے دیا جایا کرے گا اور انہیں طرح طرح کی خوفناک اذیتیں دے کر پوچھا جائے گا کہ خدا کو حاضر و ناظر جان کر بتاؤ کہ تم نے فلاں کلمہ کفر کہا تھا یا نہیں۔پس کچھ تو وہ ہوں گے جو خدا کو حاضر و ناظر جان کر اُس کلمہ کفر سے انکار کریں گے اور اس ”جھوٹ“ کی پاداش میں خوفناک اذیتیں سہہ سہہ کر جان دے دیں گے اور کچھ وہ ہوں گے جو ان ظلموں سے تنگ آکر آخر خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر یہ اقرار کر لیں گے کہ ہاں ہم نے یہ کلمہ کفر بکا تھا اور اس اظہار صداقت کی پاداش میں ان کی گردنیں شمشیر یا گلوٹین کے ایک وار سے اُڑادی جائیں گی۔اگر چہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ”اسلامی حکومت“ کی اس عملی تصویر کو دیکھ کر غیر اسلامی دنیا سخت برافروختہ اور متنفر ہوگی اور ”اسلام“ کے خلاف شدید نفرت کے جذبات سینوں میں بھڑک اٹھیں گے حتی کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی حسین تعلیم کو ، جو دراصل سراپا امن اور سلامتی کی تعلیم ہے، مجسم وحشت اور بربریت کے نام دیئے جانے لگیں گے اور دنیا اس دین سے سخت برگشتہ ہو جائے گی۔اور وہ افریقہ بھی جواحدیت کے دلنشین پیغام کو سن کر اسلام کی طرف تیز قدموں کے ساتھ دوڑا چلا آرہا ہے اپنے قدم روک لے گا بلکہ اُلٹے پاؤں پھر جائے گا اور وہ امریکہ بھی جس کے ہزاروں باشندوں کو احمدیت اسلام کی آغوش میں کھینچ لائی ہے سخت مشکوک نظروں سے اس مقدس تعلیم کو دیکھنے لگے گا اور یورپ کی بھی وہ تمام ریاستیں جہاں احمدی مبلغین پانچ وقت نعرہ ہائے تو حید بلند کرتے ہیں یک دفعہ اسلام کے نام سے بیزار ہو جائیں گی مگر برسر اقتدار علماء کی بلا سے یہ سب کچھ ہوتار ہے، اُن کو تو اسلام کی سربلندی " مرتدین کے زیر زمین ہونے میں ہی نظر آئے گی۔پس ان کی بلا سے اگر اسلام کی تبلیغ غیر مذاہب میں رکتی ہے تو رکتی پھرے اور ان کی بلا سے اگر مسلمان بڑھنے کی بجائے کم ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں۔جب تک کروڑوں کروڑ مسلمان ارتداد کے الزام میں قتل نہیں کئے جائیں گے ان کے نزدیک اسلام فتح یاب اور ظفر مند نہیں ہوسکتا۔یہ ہے اس زمانہ کے علمائے اسلام کے نزدیک اسلامی ریاست کا تصور اور فتح اسلام کا