مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 175 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 175

۱۷۵ رکھے لیکن اگر یہ سب کچھ خدا تعالیٰ ہی کی عظمت اور وقار قائم کرنے کے لئے کیا جارہا ہو اور تقوی اللہ کا یہی مفہوم ان کے ذہن میں ہو۔جب ذاتی رجحانات تشدد کو مذہبی عقائد ہی کا نام دیا جانے لگا ہو اور جب یہ ساری تعلیم جبر و تشدد خدا ہی کے نام پر اسی کی طرف منسوب کر کے پیش کی جاتی ہو تو پھر سوائے قادر مطلق خدا کے قہری ہاتھ کے، ہے کوئی ہاتھ جو ان صاحب اقتدار علماء کو اپنے ارادوں کی تعمیل سے باز رکھ سکے؟ اس سلسلہ میں جہاں تک مولانا مودودی کے عقائد کا سوال ہے ان کا ذکر کسی قدر تفصیل سے پہلے گزر چکا ہے، رہے باقی علماء تو طوالت کے خوف سے ان کا علیحدہ علیحدہ ذکر تو یہاں ممکن نہیں ہاں اس ضمن میں تحقیقاتی عدالت کے فاضل جوں کی تحقیق کا ما حصل خود انہی کے الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے :- اسلامی مملکت میں ارتداد کی سزا موت ہے۔اس پر علماء عملاً متفق الرائے ہیں۔(ملاحظہ ہوں مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری صدر جمعیت العلمائے پاکستان۔مولانا احمد علی صدر جمعیت العلمائے اسلام مغربی پاکستان۔مولانا ابوالاعلیٰ مودودی بانی و سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان۔مفتی محمد ادریس جامعہ اشرفیہ لاہور و رکن جمعیت العلمائے پاکستان۔مولا نا داؤ دغزنوی صدر جمعیۃ اہل حدیث مغربی پاکستان۔مولا نا عبد العلیم قاسمی جمعیۃ العلمائے اسلام پنجاب اور مسٹر ابراہیم علی چشتی کی شہادتیں ) اس عقیدے کے مطابق چودھری ظفر اللہ خان نے اگر اپنے موجودہ مذہبی عقائد ورثہ میں حاصل نہیں کئے بلکہ وہ خود اپنی رضامندی سے احمدی ہوئے تھے تو ان کو ہلاک کر دینا چاہیے۔اور اگر مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری یا مرزا رضا احمد خاں بریلوی یا ان بے شمار علماء میں سے کوئی صاحب (جو فتوے (14۔EX۔D۔E) کے خوبصورت درخت کے ہر پتے پر مرقوم دکھائے گئے ہیں ) ایسی اسلامی مملکت کے رئیس بن جائیں تو یہی انجام دیو بندیوں اور وہابیوں کا ہوگا جن میں مولانا محمد شفیع دیوبندی ممبر بورڈ تعلیمات اسلامی ملحقہ دستور ساز اسمبلی پاکستان اور مولانا داؤ د غزنوی بھی شامل ہیں اور اگر مولانا محمد شفیع دیو بندی رئیس مملکت مقرر ہو جائیں تو وہ ان لوگوں کو جنہوں نے دیوبندیوں کو کافر قرار دیا ہے