مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 103 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 103

۱۰۳ مذہب کے نام پرخون آنکھیں بند کر کے ہڑپ کر جائیں۔دوسرے دو نکات اس تبلیغی پروگرام کے دوسرے دو نکات احتیاطی تدابیر کے طور پر ہیں۔پہلے کا تعلق غیر مسلموں کے اس حق سے ہے کہ وہ مسلمانوں کو تبلیغ کرسکیں۔اس کا جواب تو واضح ہی ہے:۔اس مسئلہ کا فیصلہ تو بڑی حد تک قتل مرتد کے قانون نے خود ہی کر دیا ہے ( یعنی نہ رہے بانس نہ بجے بانسری) کیونکہ جب ہم اپنے حدود اقتدار میں سے کسی ایسے شخص کو جو مسلمان ہو اسلام سے نکل کر کوئی دوسرا مذہب و مسلک قبول کرنے کا حق نہیں دیتے تو لا محالہ اس کے معنی یہی ہیں کہ ہم حدود دار الاسلام میں اسلام کے بالمقابل کسی دوسری دعوت کو اٹھنے اور پھیلنے کو بھی برداشت نہیں کر سکتے لے “ دلیل بڑی واضح ہے اور قارئین سمجھ ہی گئے ہوں گے۔مختصراً اپنے الفاظ میں بھی بیان کر دیتا 66 ہوں۔جب مودودی صاحب کے اسلام نے اپنے لئے مندرجہ ذیل حقوق محفوظ کر والئے ہوں:۔(۱) تبلیغی دعوت بھیجوانا۔(۲) کوئی قبول کرے نہ کرے جس کسی پر اختیار چلے حملہ کر دینا اور بزور حکومت چھین لینا۔(۳) اگر اپنوں میں سے کوئی شخص دوسرا مذ ہب قبول کرے تو اسے قتل کر دینا۔تو پھر ظاہر ہے کہ دوسرے مذہب کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ بھی یہی تین طریق اختیار کرلے۔وہ کوئی سچا ہے جو اسے یہ حقوق پہنچتے ہوں ! مودودی صاحب تو سچے ہیں۔کافروں کو کافروں میں تبلیغ کرنے کی ممانعت آخری نکته جومودودی صاحب اشاعت اسلام کے سلسلہ میں پیش فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر بعض کا فروں نے کافروں میں ہی تبلیغ شروع کر دی تو ممکن ہے بعض کا فر دوسرے کافروں کو قائل کر کے ان کو ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیں اس لئے ان کا فروں کو یہ حق کہاں سے مل گیا کہ کافروں میں تبلیغ کریں۔یہ الفاظ میرے ہیں دلیل مودودی صاحب کی ہے۔اب مودودی صاحب کے الفاظ میں بھی اس دلیل کو سن لیجئے :۔لے مرتد کی سزا اسلامی قانون میں صفحہ ۳۲