مذہب کے نام پر خون — Page v
پیش لفظ عقائد کا اختلاف تو دنیا میں ہمیشہ رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا اور انسان اس بارہ میں کلیت آزاد ہے اور اپنے دلی یقین کے مطابق جو عقیدہ چاہے اپنائے اور اپنی نجات جن نظریات میں چاہے تصور کرے مگر یہ حق کسی کو نہیں دیا جا سکتا کہ اپنے عقائد کو جبر کسی پر ٹھونسنے کی کوشش کرے یا ایسے عقائد کے مطابق عمل پیرا ہو جو ظلم اور تعدی کی تعلیم دیتے ہوں۔یہ طریق جب بھی اختیار کیا جائے گا ہمیشہ ایک لامتناہی فساد کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔اختلافات معقول حد تک دور کرنے یا سچائیوں کو پھیلانے کا ایک اور صرف ایک طریق ہے کہ امن اور سلامتی کے ماحول میں ہر تعصب سے پاک ہوکر ایک دوسرے تک اپنے خیالات کو پہنچایا جائے اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو دیانتداری کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی جائے۔جس قدر اختلافات شدید ہوں گے اسی قدر اس معاملہ میں حلم ، بردباری اور متانت کی زیادہ ضرورت ہوگی۔اور اس بات کی ضرورت ہوگی کہ اشد ترین مخالف کے معاملہ میں بھی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے اور نظریاتی اختلافات پر سیخ پا ہو کر نعرہ ہائے جنگ بلند کرنے کی عادت ترک کر دی جائے۔لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے دوسرے مشرقی ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی ایسی پاکیزہ اور پرامن فضاء کا فقدان ہے اور ایک ایسے کم تربیت یافتہ گھوڑے کی طرح جو ذراسی تیز قدمی کے اشارہ پر اپنی چال کے سب قواعد