مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 301 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 301

+1 مذہب کے نام پرخون دین مسیحی کی خدمت کر رہے ہیں ظلم و تشدد اور تعزیر وتعذیب کے وحشیانہ افعال کا بے دریغ ارتکاب کرتے رہے۔کیا بلیک ڈیتھ “ کے زمانہ (۴۹-۱۳۴۸ ء ) میں بہت سے یہودی اپنے گھروں میں زندہ نہیں جلا دیئے گئے تھے؟ سپین میں بے دینی کے خاتمہ کی مہم کے دوران بعض عیسائی پادریوں کی انگیخت پر اور انہی کی ہدایت و رہنمائی میں خوف اور دہشت کا ایک طویل دور مسلط رہا جس میں کسی کی بھی جان محفوظ نہ تھی۔مختلف اوقات میں بہت سی بے بس اور لا چار عورتوں کو جادو گر نیاں قرار دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور کہا یہ گیا کہ جادو اور جادوگروں سے نمٹنے کا یہی مسیحی طریق ہے۔اگرچہ ظلم و تشدد کے ایسے بہت سے واقعات کا عیسائیت سے براہ راست تعلق تھا اور اسی کے ایماء ومنشاء کے مطابق ظلم و تعدی کا سلسلہ جاری رہا لیکن اس امر کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ انسانیت کے خلاف یہ جرائم ایک ایسے تاریک دور کی پیداوار تھے جس میں جہالت کا دور دورہ تھا۔آخر وہ وقت کب آئے گا کہ جب انسان ایک شخص کے کردار و اعمال اور اس کے مذہب کے درمیان فرق کرنا سیکھے گا ؟ اگر کوئی شخص ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط کرنے کا مرتکب ہوتا ہے اور مذہب کو اس کے پیروکاروں کے عمل و کردار کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر بہت سے سوالات کا پیدا ہونا ناگزیر ہے کیونکہ ہر مذہب کے ماننے والوں کا طرز عمل تو ملک بہ ملک، قریہ یہ قریہ اور زمانہ بہ زمانہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتا چلا آیا ہے حتی کہ بسا اوقات ایک شخص کا طرز عمل دوسرے شخص کے طرز عمل سے مختلف ہوتا ہے۔کس قدر مختلف تھا مسیح علیہ السلام کے حواریوں کا عمل چلی کے پنوشے PINO CHEY یا جنوبی افریقہ کے حکمرانوں کے عمل سے۔حالانکہ موخر الذکر بھی مسیح علیہ السلام کے حواریوں کی طرح اپنے دعوے کی رو سے مسیحی اقدار ہی کے علمبردار ہیں۔اب ان دونوں میں سے مسیحیت کا ترجمان کس کو مانا جائے؟ کیا ہم اس بات کے مجاز ہیں کہ ہم پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کو جن میں لاکھوں آدمی مارے گئے انسانیت کے خلاف مسیحی جنگیں قرار دیں؟ صرف دوسری عالمی جنگ کے دوران ہی اکیلے روس کو جس جانی نقصان سے دو چار ہونا پڑا وہ اکسٹھ لاکھ نفوس سے متجاوز تھا۔اُس جنگ میں بوسنیا کی مجموعی آبادی کا تین چوتھائی حصہ صفحہ ہستی سے نابود ہو گیا، منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کی شکل میں جو