مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 296 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 296

۲۹۶ مذہب کے نام پرخون کی طرف جھانک رہا ہے اور ہر جگہ مسلمانوں کے اپنے امن کو برباد کر رہا ہے۔آج عالم اسلام میں جس عدم رواداری ، تنگ نظری ، تنگ دلی اور تعصب کا دور دورہ ہے اس نے عالم اسلام کے امن کو تہ و بالا کر رکھا ہے۔افسوس! صد افسوس!! مجھے اس حقیقت کا احساس ہے کہ اپنے محدود و مخصوص معنوں کی رو سے دہشت گردی“ کا لفظ ایسے افعال کے لئے بولا جاتا ہے جو خوف دلانے اور دہشت پھیلانے والے ہوں جیسے بموں کے دھماکے اور ان سے متعلق واقعات وغیرہ۔لیکن میں اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ دہشت گردی کے لفظ کو صرف ایسے افعال و واقعات تک محدود سمجھا جائے۔میرے نزدیک جب بھی بعض حکومتوں کی طرف سے خود اپنے اہل ملک کی مخالفانہ آواز کو دبانے کے لئے ظالمانہ اقدامات کئے جائیں تو ایسے ناروا اقدامات کو بھی دہشت گردی کے مفہوم میں شامل سمجھنا چاہیے اور ان کی بھی دیگر نوعیتوں کی دہشت گردی کی طرح وسیع پیمانے پر پرزور اور بھر پور مذمت ہونی چاہیے۔میں حکومتوں کے تمام ایسے ظالمانہ اقدامات کو جو وہ خود اپنے ہی اہل ملک کے دائیں یا بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد یا طبقوں کے خلاف کرتی ہیں بدترین قسم کی دہشت گردی سمجھتا ہوں۔جب دہشت گردی کی کارروائیاں دوسرے ملکوں کی حکومتوں کے خلاف روا رکھی جاتی ہیں اور جگہ جگہ کئے جانے والے دھماکوں اور ہوائی جہازوں کے اغوا کی شکل اختیار کرتی ہیں تو ایسے واقعات کی طرف ہر کوئی توجہ دیتا ہے اور ان کی مذمت کرتا ہے۔انتہائی سنگدلی کی آئینہ دار ایسی دہشت گردی کے جولوگ شکار ہوتے ہیں عالمی رائے عامہ ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتی ہے اور اسے کرنا بھی چاہیے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ زبانی ہمدردی پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ آئندہ ایسے واقعات کے اعادہ کو روکنے والے تعمیری اقدامات کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے مؤثر ذرائع اختیار کئے جاتے ہیں۔یہ سب کچھ صحیح اور درست ہے اور ایسا کرنا از بس ضروری ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ سینکڑوں اور ہزاروں لوگ جو خودا اپنی ہی سخت گیر اور بے رحم حکومتوں کے ہاتھوں اذیتیں برداشت کر رہے ہیں کسی شمار قطار میں ہیں؟ کیا کسی نے ان کے دکھوں اور اذیتوں کے ازالہ کے لئے کچھ سوچا ہے؟ ان کی دکھ بھری چیخ و پکار شاذ کے طور پر ہی ملک کے باہر سنی جاتی ہے۔ان کی احتجاج بھری آوازوں کو سنسر شپ