مذہب کے نام پر خون — Page 295
۲۹۵ مذہب کے نام پرخون جہاں تک غیر مسلم طاقتوں کا تعلق ہے وہ بہر طور مطمئن رہیں کہ فی زمانہ اسلامی دنیا کے نام نہاد جنگجویانہ رجحانات سے انہیں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور اس طرف سے وہ بالکل محفوظ ہیں۔اس کے ثبوت کے لئے مغربی ملکوں اور بالخصوص امریکہ کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات و روابط پر نگاہ ڈالنا ہی کافی ہے۔اس بات کا تصور ہی ممکن نہیں کہ سعودی عرب اور اس کے زیر اثر ممالک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف تلوار اٹھانے کی کبھی خواب میں بھی جرات کر سکتے ہیں۔سعودی نظام حکومت کی بقا کا سو فیصد انحصار امریکہ پر ہے۔حکمران خاندان کی قریباً تمام کی تمام دولت امریکن بنکوں اور مغربی دنیا کے دوسرے بنکوں میں جمع ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ داخلی اور خارجی تحفظ کے لئے سعودی عرب کا امریکہ پر انحصار اس قدر ظاہر و باہر اور اظہر من الشمس ہے کہ اس بارہ میں مزید کچھ کہنے کی حاجت ہی نہیں۔مذکورہ بالا یہ دو عوامل ہی اس بات کی ضمانت کے لئے کافی ہیں کہ نہ تو خود سعودی عرب اور نہ اس کے زیر اثر اس کا کوئی اتحادی مسلم ملک مغرب کے غیر مسلم ممالک کے لئے خطرہ کا باعث ہو سکتا ہے۔مزید برآں فی زمانہ مسلم ممالک میں سے کوئی ایک ملک بھی جنگی ساز وسامان کی تیاری میں خود کفیل نہیں ہے۔ہر مسلمان ملک اپنی دفاعی اور دیگر جنگی ضروریات کے لئے مغرب یا مشرق کی کسی نہ کسی بڑی طاقت کا سہارا ڈھونڈ نے اور اس پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔یہ حقیقت بھی اس امر کی کافی سے زیادہ ضمانت ہے کہ غیر مسلم طاقتوں کے ساتھ ان مسلمان ملکوں کے تعلقات پرامن بقائے باہمی کے ہی آئینہ دار نہیں ہیں بلکہ باہمی تحفظ کے احساس کو بھی اجاگر کرنے والے ہیں۔یہی اصول لیبیا اور شام ایسے ممالک پر بھی صادق آتا ہے جن کے تعلقات مغربی ملکوں کی نسبت مشرقی طاقتوں کے ساتھ زیادہ دوستانہ اور فراخ دلا نہ ہیں۔کوئی ایک شخص بھی جسے جدید انداز جنگ کی تھوڑی بہت بھی سمجھ ہو ایسا نہیں ملے گا کہ جو اس نام نہاد اسلامی عسکری قوت کو مغربی طاقتوں کے لئے کسی لحاظ سے بھی خطرے کا باعث قرار دے سکے۔البتہ ان بڑھتے ہوئے رجحانات سے ایک نوع کا خطرہ ضرور لاحق ہے اور اس کے بارے میں بعض لوگوں کا فکرمند ہونا ایک قدرتی امر ہے۔اسلامی عسکری قوت سے وہ خطرہ خود عالم اسلام کو لاحق ہے بلکہ صرف لاحق ہی عالم اسلام کو ہے۔یہ نجی نوعیت کا ایک ایسا خطرہ ہے جو خود عالم اسلام کے اندر