مذہب کے نام پر خون — Page 294
۲۹۴ مذہب کے نام پرخون کے اس تصور کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا کیونکہ عملاً جو کچھ دیکھنے میں آتا ہے وہ اس تصور سے یکسر مختلف ہے۔یہ صیح ہے کہ مسلمان ملاں غیر مسلم طاقتوں کی مکمل تباہی کا راگ بہت الاپتے ہیں اور ان کی طرف سے جہاد! جہاد! کا شور بھی بہت سننے میں آتا ہے لیکن اس تعلق میں جب وہ غیر اسلامی طاقتوں کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے ان کی مراد مسیحی ، یہودی، بدھسٹ یا ناستک طاقتوں سے نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی دانست میں بعض مسلمان فرقوں کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں جو ان کے نزدیک مسلمان کہلانے کے باوجود غیر مسلم شمار کئے جانے کے قابل ہوتے ہیں۔ملاؤں کے نظریہ کے مطابق ان کے اپنے فرقے کے سوا تمام دوسرے مسلمان فرقے اپنی ماہیت کے اعتبار سے غیر مسلم ہوتے ہیں یا وہ ایسے عقائد کے حامل ہوتے ہیں جو بقول ان کے انہیں اللہ اور اس کے مقبول بندوں کے غیظ و غضب کا نشانہ بننے کا اہل بنانے والے ہوتے ہیں۔اللہ کے مقبول بندوں سے ان کی مراد وہ خود اور ان کے ہمنوا ہوتے ہیں۔ان کی نگاہ میں غیر مسلم اسلام کے اصل دشمن نہیں ہیں بلکہ بقول ان کے اصل دشمن تو خود دنیائے اسلام کے اندر موجود بعض مخصوص مسلمان فرقے ہیں۔ایک مسلمان فرقہ کے افراد کی طرف سے جب جنگجویانہ رجحانات کا اظہار ہوتا ہے تو ان کا رخ غیر مسلموں سے کہیں زیادہ دوسرے مسلمان فرقوں کے افراد کی طرف ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی طرف سے مرتد کی سزا قتل کے مزعومہ عقیدے پر بہت زور دیا جاتا ہے۔یہ ان کا ایک بہت ہی مہلک ہتھیار ہے اُن مسلمانوں کے خلاف جو کسی ملک کی مسلمان اکثریت کے عقائد سے قدرے مختلف عقائد رکھنے والے ہوں۔ایسے فرقوں کے افراد کوموت کی سزا دو مرحلوں میں دی جاتی ہے۔پہلے مرحلہ میں ان کے عقائد کو غیر اسلامی عقائد قراردیا جاتا ہے۔اس کے نتیجہ میں وہ مرتدوں کے زمرے میں شمار کئے جانے کے سزاوار ہو جاتے ہیں۔دوسرے مرحلہ میں اس امر پر زور دے کر کہ مرتد کی سزا قتل ہے انہیں قتل کئے جانے کا سزاوار ٹھہرایا جاتا ہے۔ہرغیر جانبدار مبصر اس امر سے اتفاق کرے گا کہ یہ بڑھتا ہوا جنگجویانہ رجحان خود مسلمانوں میں فساد کے بیج بونے اور گڑ بڑ پھیلانے کا موجب بنا ہوا ہے نیز یہ کہ یہ رجحان ہی ایک فرقہ کے ماننے والوں کے دلوں میں دوسرے فرقہ کے ماننے والوں کے خلاف انتہائی شدید نفرت پھیلانے کا اصل ذمہ دار ہے۔