مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 210 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 210

۲۱۰ مذہب کے نام پرخون جائے اور اس کے مطابق ہی اس کے ساتھ سلوک کیا جائے یعنی یہ کہ اس کے اہلِ خانہ اور اس کے مال و متاع کی حفاظت ضروری ہے اور یہ کہ اگر وہ قیدی بن جائے تو سرسری سماعت کے ذریعہ اس پر کوئی حکم نہیں لگایا جاسکتا یا اسے بطور غلام فروخت نہیں کیا جاسکتا ہے ،، تکفیر بازی سے کی بنیاد در اصل فقہاء نے ڈالی تھی۔جیسا کہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں یہ تو حضرت علی کو برا بھلا کہنے اور انہیں خطا کا رٹھہرانے کے سلسلہ میں خارجیوں کا ایک بہانہ تھا لیکن فقہاء نے خارجیوں کی اس ایچ اور نرالی منطق کو اپنا تو لیا لیکن وہ خود مسلمان کی کوئی متفقہ تعریف متعین نہیں کر سکے۔اگر کوئی شخص ان مسلمانوں کی تعداد معلوم کرنا چاہے جنہوں نے اسلام ترک کر کے کسی اور دین کو اختیار کر لیا تھا اور اس بناء پر انہیں قتل کر دیا گیا تھا تو اسے تیرہ سوسالہ اسلامی تاریخ کو کھنگالنے سے بھی کچھ حاصل نہ ہوگا کیونکہ جہاں بھی ملے گا کوئی ایک آدھ واقعہ ہی شاذ کے طور پر ملے گا اور اس کے پیچھے بھی سیاسی وجوہ کارفرما ہوں گی۔قاہرہ میں MAIMONIDES کوقتل کرنے کی ناکام کوششیں کی گئی تھیں گے۔نیز لبنان میں MARONITE کے امیر یونس سے اور اسی طرح تبریز میں رشید الدین کو قتل کئے جانے کے واقعات ملتے ہیں لیکن یہ گنتی کے چند واقعات ہیں اور نہ ہونے کے برابر ہیں۔ہندوستان کی مغلیہ سلطنت میں ایسا صرف ایک واقعہ ریکارڈ کیا گیا ہے وہ واقعہ یہ ہے کہ ایک پرتگیزی راہب نے اسلام قبول کر لیا تھا پھر وہ اپنے دین کی طرف واپس لوٹ گیا۔اسے اور نگ آباد میں قتل کیا گیا۔اس کے قتل کی وجوہات بھی مذہبی نہیں بلکہ سیاسی تھیں۔اس کے متعلق شدید شبہ کا اظہار کیا گیا تھا کہ وہ قبولِ اسلام کی آڑ میں پرتگیزیوں کے لئے بطور برنارڈ لیوکس کی کتاب ”اسلام ان ہسٹری صفحہ ۲۳۳ برنارڈ لیونس کی کتاب ” اسلام ان ہسٹری صفحه ۲۱۷ تا ۲۳۶ نیز کتاب دی جیوز آف اسلام صفحه ۵۳، ۵۴ سے برنارڈ لیوئس کی کتاب ”دی جیوز آف اسلام صفحہ ۱۰۰ ICNAZ GOLDZIHER کی کتاب ” محمد اینڈ اسلام ( ترجمہ انگریزی یا لے یونیورسٹی پریس ۱۹۱۷ء) صفحہ ۷۴ نوٹ ۳ ۵ برنارڈ لیوئس کی کتاب ”دی جیوز آف اسلام صفحہ ۱۱۱ سر جادو ناتھ سرکار کی کتاب ”شارٹ ہسٹری آف اور نگزیب (مطبوعہ کلکته ۱۹۵۴ء) صفحه ۱۰۶،۱۰۵