مذہب کے نام پر خون — Page 206
وو ۲۰۶ مذہب کے نام پرخون مسٹر برنارڈ لیوئس BERNARD LEWIS نے اس بارہ میں بالوضاحت لکھا ہے کہ یہ بات عیاں ہے کہ "التردہ کی تحریک اس امر کی آئینہ دار ہے کہ بعد میں آنے والے مؤرخوں نے جن کا نقطۂ نظر مذہبی عصبیت کا رنگ اپنے اندر لئے ہوئے تھا رونما ہونے والے واقعات کی اصل نوعیت اور اہمیت کو مسخ کر کے رکھ دیا۔مسٹر برنارڈ لیوئس نے اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے مزید لکھا ہے :- ابوبکر کی جانشینی کو تسلیم کرنے سے قبائل کے انکار کے ہرگز یہ معنی نہ تھے کہ وہ لوگ جو اسلام میں نئے نئے داخل ہوئے تھے اپنے سابقہ مشرکانہ مسلک کی طرف واپس لوٹ گئے تھے بلکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ طرفین میں سے ایک کی وفات سے سیاسی معاہدہ از خود کالعدم ہو گیا ہے۔جو قبائل مدینہ کے قرب وجوار میں آباد تھے وہ تو سوچ سمجھ کر حقیقی معنوں میں اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے تھے ان کے مفادات پوری امت مسلمہ کے مفادات سے اس قدر ہم آہنگ تھے کہ امت سے جدا گانہ ان کی اپنی کوئی تاریخ مرتب ہونے کا سوال ہی نہ تھا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ان کی اپنی کوئی علیحدہ تاریخ مرتب ہی نہیں ہوئی۔محمد کی وفات کے نتیجہ میں باقی قبائل کے نقطہ نظر کے مطابق مدینہ کے ساتھ ان کے سیاسی تعلقات کا متاثر ہونا ایک لازمی امر تھا۔وہ سمجھتے تھے کہ اب مدینہ کے ساتھ تعلق برقرار رکھنے یا نہ رکھنے میں وہ آزاد ہیں۔وہ اپنے آپ کو ابوبکر کے انتخاب کو تسلیم کرنے کا کسی لحاظ بھی پابند نہیں سمجھتے تھے اور اس لئے بھی نہیں سمجھتے تھے کہ انہوں نے ان کو منتخب کرنے میں سرے سے حصہ نہیں لیا تھا۔چنانچہ انہوں نے فوراہی ٹیکس کی ادائیگی بند کر دی اور معاہدے کے نتیجہ میں قائم ہونے والے تعلقات کو معطل کر دیا۔مدینہ کی بالا دستی قائم رکھنے کے لئے ابو بکر کو نئے معاہدے کرنے پڑے لے “ حضرت علی ۶۶۱ء میں شہید ہوئے۔آپ کی شہادت کے ساتھ ہی ایک ایسے مسلمان حکمران کا نظریہ جس کی ذات میں مملکت اور مذہب کی سربراہی مجتمع ہو رخصت ہو گیا۔سیاسی حکمرانوں کی برنارڈ لیوئس کی کتاب THE ARABS IN HISTORY (لندن ۱۹۵۸ء) صفحه ۵۲،۵۱