مذہب کے نام پر خون — Page 192
۱۹۲ مذہب کے نام پرخون مرتدوں کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔اس ضمن میں پہلا حوالہ سورۃ محمد میں واقع ہوا ہے۔سورۃ محمد ایک مدنی سورۃ ہے جس میں اسلام کے رو سے جنگ کے مقاصد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس میں بتایا گیا ہے که مؤمن تو ایسی وحی کو جس میں انہیں اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے بخوشی قبول کرتے ہیں لیکن برخلاف اس کے منافقین یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں مقتل کی طرف ہانک کر لے جایا جارہا ہے۔اس طرح حقیقی مومنوں کو ، ان لوگوں کے مقابلہ میں جن کا ایمان جھوٹ پر مبنی اور کھوکھلا ہے ممیز و ممتاز کر کے دکھلایا گیا ہے۔ان امور پر روشنی ڈالتے ہوئے اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے :- انَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى الشَّيْطَنُ سَوَّلَ لَهُمْ وَ اَمَلى لَهُمْ - ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لِلَّذِينَ كَرِهُوا مَا نَزَّلَ اللَّهُ سَنْطِيعُكُمْ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ وَاللهُ يَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ۔(محمد : ۲۷،۲۶) ترجمہ:- وہ لوگ جو ہدایت ظاہر ہونے پر اس سے پھر گئے شیطان نے ان کا عمل ان کو اچھا کر کے دکھلایا ہے اور ان کو جھوٹی امیدیں دلائی ہیں۔یہ اس لئے ہوا کہ وہ ان لوگوں سے جو خدا کی تعلیم کو نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ ہم تمہاری بعض باتوں میں اطاعت کریں گے اور اللہ ان کی راز داری کو جانتا ہے۔مندرجہ بالا آیات میں ان منافقوں کے لئے جو مرتدوں کے زمرہ میں آتے ہیں کسی سزا کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ایسے منافقوں کے ذکر کا دوسرا حوالہ خود سورۃ المنافقون میں وارد ہوا ہے۔یہ سورۃ ۶ ہجری مطابق ۶۲۸ء کے اواخر میں نازل ہوئی تھی۔اس سورۃ میں منافقوں کی غداری اور بے ایمانی کا پردہ چاک کیا گیا ہے اور ان کے ایمان لانے کے اعلانیہ دعوے کو سراسر فریب اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔یہ ایک اعلانیہ سرزنش تھی جو انہیں اس وقت کی گئی تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :- إذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَكَذِبُونَ اِتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ - ذَلِكَ بِأَنَّهُمُ امَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطِيعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ b