مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 164 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 164

۱۶۴ مذہب کے نام پرخون کے غیور مسلمان برسر پیکار تھے۔انہی علماء میں سے ایسے بھی اٹھے جنہوں نے اس جہاد آزادی کو حرام جنگ قرار دیا اور اس جرم کی پاداش میں حکومت وقت انہیں نظر بند کرنے پر مجبور ہوگئی لیکن میدان جہاد کے خطرات کے مقابل پر قید تنہائی کے سکون کو انہوں نے اپنے لئے زیادہ پسند کیا۔یہ علماء ہر اس مسئلہ سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں جس سے ان کی زود رنج طبیعت سخت برافروختہ ہو سکے اور پھر یہ باہم مسلمان فرقوں کے درمیان افتراق اور مناقشت کو ہوا دے سکیں۔برائیوں کو دیکھنے میں یہ نہایت دور بین بلکہ ستم ایجاد نگاہ رکھتے ہیں اور خوبیاں ان کی نظر سے پہاڑ اوجھل رہتی ہیں۔ان کی ساری بجلیاں صرف مسلمان کا شانوں پر ٹوٹتی ہیں۔ان کا اجماع کبھی باہمی محبت کی بناء پر نہیں ہوتا بلکہ کسی تیسرے کا بغض ان کو اکٹھا کرنے کا موجب بنتا ہے۔چنانچہ بھی تو آپ اجماع امت احمدیوں کے خلاف دیکھیں گے اور کبھی شیعوں کے خلاف کبھی بریلویوں کے خلاف یہ اجماع ہوگا اور کبھی دیو بندیوں کے مقابل پر اور کبھی سب مل کر اہل قرآن کے خلاف اجماع کا نظر فریب منظر پیش کریں گے۔ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ ایک باغ کے مالک نے دیکھا کہ ایک سیڈ ، ایک پٹھان اور ایک میراثی اس کے باغ کا پھل توڑ رہے ہیں۔ان تینوں کے مقابل وہ اپنے آپ کو بہت کمزور پاتا تھا چنانچہ اس نے آگے بڑھ کر انہیں السلام علیکم کہا اور دست بستہ عرض کی کہ قبلہ شاہ صاحب اور محترم خان صاحب آپ دونوں تو خیر معزز لوگوں میں شمار ہوتے ہیں ، پس آپ جو چاہے کریں کہ آپ ہی کا باغ ہے مگر یہ میراثی کس برتے پر اس باغ میں آنے کی جرات کر سکا اس لئے آپ بزرگان اگر میرا ساتھ دیں تو کیوں نہ ہم مل کر پہلے اس چور کی مرمت کر لیں پھر آپ مختار ہیں جس طرح چاہیں اور جہاں سے چاہیں اس باغ کا پھل توڑیں۔اس پر ان تینوں نے مل کر اس میراثی کو پکڑ لیا اور مار مار کر وہیں ڈھیر کر دیا۔شاہ صاحب اور خان صاحب اس کے بعد پھر پھل کی طرف متوجہ ہوئے۔اس پر مالی شاہ صاحب کو الگ لے گیا اور گذارش کی کہ حضرت یہ سب کچھ آپ ہی کا ہے مجھے آپ پر تو کوئی اعتراض نہیں کہ آپ آل رسول ہیں مگر اس پٹھان پر بہت غصہ آ رہا ہے کہ اس کو تیسری جگہ پر یہ حق کہاں سے مل گیا کہ میرے باغ کا پھل برباد کرے۔شاہ صاحب ذرا سید ھے سادے آدمی تھے اُن کی سمجھ میں یہ بات آگئی چنانچہ اُن دونوں نے خان صاحب کو پکڑ لیا اور رسوں