مذہب کے نام پر خون — Page 153
۱۵۳ مذہب کے نام پرخون میں دبکے بیٹھے ہیں۔عیسائی پادریوں نے اسلام اور اسلام کے مقدس رسول کے خلاف اتنی کتا بیں شائع کی ہیں کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کی بھی اتنی تعداد نہیں ہے اور وہ ہر زاویہ سے ہر تیکھے ہتھیار کے ذریعہ اسلامی عمارت کی ایک ایک اینٹ پر ضر میں لگا رہے ہیں۔وہ آنحضرت کی مقدس ذات پر بھی حملہ آور ہیں اور امہات المؤمنین پر بھی سخت نا پاک حملے کرتے ہیں۔وہ اسلام کو ایک جابر اور قاہر مذہب کے طور پر پیش کرتے ہیں اور قرآن کریم کو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دل کی گھڑی ہوئی باتیں قرار دیتے ہیں۔ان کا علم تاریخ بھی اسلام پر حملہ آور ہے اور علم فلسفہ بھی۔ان کا علم منطق بھی اسلام پر حملہ آور ہے اور علم طبیعات بھی اور ان کی تہذیب نے اسلامی تہذیب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ہیں مگر افسوس ہے کہ ہمارے علماء کو اس خطرہ پر بھی کوئی آگا ہی نہیں اور اگر ہے تو جواب کی طاقت نہیں پاتے سوائے اس کے کہ حکومت سے مطالبہ کریں کہ اس ملک میں ان کا فروں کی تبلیغ کو بزور بند کر دیا جائے۔یہ نہیں سوچتے کہ آخر کہاں کہاں اور کس کس ملک میں ان کی تبلیغ کو بزور بند کروا سکیں گے اور مغربی تہذیب اور علوم وفنون کے چور دروازوں پر وہ کون سے پہرے بٹھا ئیں گے جو بزور شمشیر شکوک کے ریلے کو مسلمانوں کے دل تک پہنچنے سے روک دیں۔اور کیا صرف دفاع پر ہی اسلام کے احیاء کی ضمانت لی جا سکتی ہے؟ کیا یہ نہیں جانتے کہ ابھی تک دنیا کی بھاری اکثریت اسلام کے نام سے بے بہرہ ہے۔ابھی تو بر صغیر ہندو پاکستان میں ہی اسلام کو غلبہ حاصل نہیں ہوا۔ابھی تو ہمیں امریکہ کو بھی اسلام کا پیغام دینا ہے اور روس کو بھی ، چین کو بھی اور جاپان کو بھی۔ایشیا کے اکثر ممالک بھی ابھی تک اسلام سے کوسوں دور ہیں اور افریقہ کی بھی کثیر آبادیوں کو اسلام کی خبر نہیں اور براعظم آسٹریلیا میں تو مسلمانوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔پس کیا اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لئے ضروری نہیں کہ ان دور دراز پھیلی ہوئی وسیع آبادیوں کو اسلام کا پیغام پہنچایا جائے اور ان جہل اور لاعلمی کے تہہ در تہہ پردوں کو اٹھادیا جائے جو دنیا کی آنکھ اور اسلام کے حسین چہرہ کے درمیان صدیوں سے حائل پڑے ہیں۔اور مغرب کے دل کو بھی فتح کر کے اپنے آقا کے قدموں میں لا ڈالا جائے اور مشرق کے دل کو بھی۔اور کیا اسلام کی سر بلندی کے لئے بس یہی کافی ہے کہ اپنی مسجد اور قباؤں کی محدود حدود میں