مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 150 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 150

مذہب کے نام پرخون نیچے اتر آتے ہیں اور دوسری طرف ان کے جذبات اس قدر زود حس اور بھر کیلے ہو جاتے ہیں کہ بعض فرقوں کی مسجدوں کی تعمیر بھی برداشت نہیں ہوتی اور جلتی پر تیل کا کام کر جاتی ہے۔پھر ان کی آتش غضب نہیں ٹھنڈی ہوتی یہانتک کہ وہ مسجد نظر آتش یا مسمار نہ کر دی جائے اور یہاں اور وہاں سمندری یا راولپنڈی یا سرگودھا میں ایک یا دو مسجد میں گرا کر یا جلا کر وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کی ایک عظیم الشان خدمت سر انجام دی ہے اور ان کے دلوں میں اس فتح عظیم کے نقارے بجنے لگتے ہیں۔ایک طرف تو وہ ان تمام خطرات سے یکسر آنکھیں موند لیتے ہیں جو ایک مدت سے اسلام کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں اور اندرونی طور پر بھی اور بیرونی طور پر بھی اس شدت سے اس مظلوم مذہب پر حملہ آور ہیں کہ ان کے خیال سے بھی ایک صاحب دل مسلمان کی راتوں کی نیند حرام ہو جانی چاہئیے اور دوسری طرف بعض وہمی اور غیر موجود خطرات کے پیچھے اس جوش و خروش کے ساتھ پڑے ہوئے ہیں جیسے کوئی بھوت کے تصور کے پیچھے لٹھ لے کر بھاگ رہا ہو اور کہے کہ میں دم نہیں لوں گا اور چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک کہ اے میرے تصور کے بھوت ! میں لاٹھیوں سے مار مار کر تیرا کچومر نہ نکال دوں۔چنانچہ وہ روز مرہ کی زندگی میں اپنے شہروں میں، اپنے قصبات میں ، اپنے گاؤں کی گلیوں میں بلکہ ان گھروں میں بھی دیکھتے ہیں جن میں وہ رہتے ہیں کہ بد دیانتی قوم میں اس طرح سرایت کر گئی ہے جیسے سمندر میں ڈوبے ہوئے سوت کے کپڑے میں پانی (سوائے ان کے جو تقویٰ اللہ کا لباس اوڑھے ہوئے ہوں اور ہر قسم کے شیطانی نفوذ سے پاک ہوں ) وہ رشوت ستانی کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر موجزن پاتے ہیں اور چوری اور ڈا کہ اور ظلم اور بدنظری اور بے حیائی کوگھل کھیلتا ہوا دیکھتے ہیں اور اسلام پر یہ ظلم ان کی نظروں کے سامنے ان کی سماعت کی حدود میں ان کے آگے اور ان کے پیچھے، ان کے دائیں اور ان کے بائیں توڑے جاتے ہیں۔وہ مسجدوں کو ویران پاتے ہیں اور دلوں کو خدا تعالیٰ کے ذکر اور اس کی یاد سے خالی دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ مذہبی دنیا نہایت سرعت کے ساتھ لامذہبیت کی طرف دوڑی چلی جارہی ہے اور شوریدہ سری اور دہریت کا سیلاب ہے کہ امڈتا چلا آتا ہے۔وہ مذہب کی سرزمین کو کناروں سے کاٹتا ہوا اور گھاؤ ڈالتا ہوا لحظہ لحظہ آگے بڑھ رہا ہے اور اہل مذہب کی زمین چاروں طرف سے دن بدن سمٹتی اور تنگ ہوتی چلی جاتی ہے۔