مذہب کے نام پر خون — Page 151
۱۵۱ مذہب کے نام پرخون وہ یہ سب کچھ دیکھتے ہیں لیکن ناموسِ مذہب اور احیائے دین کے لئے رگِ حمیت جوش میں نہیں آتی اور امت محمدیہ کی اخلاقی تعمیر نو کے لئے وہ ذرہ بھی درد دل محسوس نہیں کرتے۔محض خشک فتووں پر اکتفاء ہے۔حالانکہ یہ گھٹن وہ گھن ہے جس نے اسلام کے جسم کو ایک کرم خوردہ لکڑی کی طرح کھوکھلا کر رکھا ہے! حق تو یہ تھا کہ وہ ان خوفناک بیماریوں سے مسلمانوں کو نجات دلانے کے لئے مستعد اور کمر بستہ ہو جاتے اور اس راہ میں اپنی جان، مال، وقت اور عزت کی کچھ پرواہ نہ کرتے۔سخت کرب اور اضطراب اور گہرے دکھ اور جذبہ ہمدردی کے ساتھ وہ لوگوں کو نیکی کی تلقین کرتے۔وہ اپنے آقا کی امت کے بیمار افراد سے کم از کم ویسی ہی محبت کا اظہار کرتے جیسی ایک ماں اپنے بیمار بچے سے کرتی ہے۔دیکھو وہ اس کو بچانے کیلئے ہر امکانی کوشش کرتی ہے کبھی ڈاکٹروں کی طرف دوڑتی ہے، کبھی حکیموں کے دروازے کھٹکھٹاتی ہے اور کبھی اپنے بچے کو چھاتی سے لگا کر اس کی بلائیں لیتی ہے۔اور اگر ایسی ہی نادار ہو کہ علاج کے لئے کوئی پیسہ نہ رکھتی ہو تو فاقے کاٹ کر یا بھیک مانگ کر بھی اپنے جگر گوشے کے لئے دوا لے آتی ہے اور دن کی تھکی ہاری راتوں کو بھی چین سے نہیں سوتی اور آنکھ لگ بھی جاتی ہے تو خوف وہر اس سے بار بار ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتی ہے اور بچہ پر ہراساں اور ترساں نگاہیں ڈالتی ہے اور جب اس کی بے قراری کو دیکھ کر کسی پہلو قرار نہیں آتا تو روتی اور گڑ گڑاتی ہوئی سجدے میں جا گرتی ہے کہ اے میرے آقا! اے میرے آقا! مجھ سے تو کچھ بن نہیں پڑتا ، میں تو بے بس ہوئی جاتی ہوں، تو ہی فضل فرما اور میرے بلکتے ہوئے لال کو شفا دے دے !!! یہی جذبہ ہمدردی ہے جو قوموں کی شفایابی کا موجب بنتا ہے اور اکھڑے ہوئے سانسوں کو قائم کر دیتا ہے، جو اخلاق کی بجھتی ہوئی شمعوں کو پھر روشنی بخشتا ہے اور مذہب کے مٹتے ہوئے نقوش کو پھر سے اجاگر کر دیتا ہے۔اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔کوئی بھی تو چارہ نہیں۔یہی وہ جذبہ محبت ہے جو بنی نوع انسان کی ہمدردی میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے سینوں میں موجزن رہا اور یہی وہ جذبہ محبت ہے جو عرب کے ایک اقی نبی کے دل سے رحمتوں کا سر چشمہ بن کر پھوٹا اور ایک عالم کو سیراب کر گیا۔اور وہ آسمانی پانی یہی ہے جس نے صدیوں کے