مذہب کے نام پر خون — Page 147
۱۴۷ مذہب کے نام پرخون جلانے والوں سے کوئی کہ نہیں۔چھرا گھونپنے والوں کو بھی میرا دل معاف کر سکتا ہے اور بے اختیار اپنے مطالع کی پیروی میں دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللّهُمَّ اهْدِ قَوْمَنَا فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ”اے اللہ ! ہماری قوم کو ہدایت دے کہ یہ نہیں جانتے“ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر میرے جذبات کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاہ دار کاخر کنند دعوی حبّ پیمبرم ”اے دل تو ان کی خاطر بھی ملحوظ رکھ کہ آخر یہ لوگ میرے ہی رسول کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔“ مگر بڑے ہی بھاری عزم کی ضرورت ہے ان علماء کو معاف کرنے کے لئے جو سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو غلط راستوں پر چلانے کے ذمہ دار ہیں اور ان نیک مقاصد کی بیخ کنی کرتے ہیں جن کا پودا اس مقدس رسول نے خود اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا۔ہاں ایک تصور ہے جو ہر غصہ کو ٹھنڈا کر رہا ہے اور ایک یاد ہے جو ہر جذ بہ نفرت کو کا لعدم کر رہی ہے۔وہ تصور رحمة للعالمین کے پُر رحمت دل کا تصور ہے اور وہ یاد فتح مکہ کے دن کی یاد ہے! یہ تصور اور یہ یاد ہر نفرت اور ہر غصہ کو گداز کر کے ایسے جذبات در دو غم میں تبدیل کر دیتی ہے کہ دل سے آہوں کا دھواں اٹھنے لگتا ہے اور دعائے نیک کے سوا کوئی خواہش باقی نہیں رہتی۔خدا جانے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل سے یہ دعائے نیک کس شدت اور کس کرب کے ساتھ اٹھتی ہوگی کہ عرش کا خدا بھی پکارا ٹھا! لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلَا يَكُونُوا مُؤْمِنينَ (الشعراء: ۴) کیا تو ا پنی جان اس غم میں ہلاک کر لے گا کہ یہ ایمان نہیں لاتے !!!