مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 148 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 148

۱۴۸ مذہب کے نام پرخون اجتماع ضدین ( ان مخصوص متشد د راہنماؤں کے نظریات ایک عجیب و غریب اجتماع ضدین کا منظر پیش کرتے ہیں۔زود رنجی اور سخت بے حسی ، وہمی خطرات کا پیچھا اور حقیقی مخطرات سے لا پروائی ان کی شخصیت کے نمایاں خدو خال ہیں ! ) گزشتہ ابواب کے مطالعہ سے قارئین پر بخوبی واضح ہو چکا ہوگا کہ مذہب کے نام کو بعض خود غرض مذہبی راہنما جس بے دردی سے استعمال کرتے ہیں شاید ہی کوئی اور نام اس بے دردی سے استعمال ہوا ہو۔بایں ہمہ مذہب کو ہرگز ان مظالم اور خونریزیوں کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا جو اس کے نام پر کی جاتی رہی ہیں اور آج بھی کی جاتی ہیں۔کیا دیانت کے نام پر اگر بددیانتی کی جائے تو دیانت کے پاکیزہ چہرہ پر کوئی داغ لگ سکتا ہے؟ دراصل انفرادی یا قومی اعمال کسی فرد یا قوم کے ذہنی رجحانات اور قلبی کیفیات کے آئینہ دار ہوا کرتے ہیں۔یہ جو ہم اپنے گردو پیش میں معاشرہ کی تصویر دیکھتے ہیں یہ ہمارے ہی تصورات اور اخلاق کے خدو خال ہیں اور بحیثیت قوم ہمارے باطن کا وہ عکس ہے جو آئینہ قدرت ہمیں دکھا رہا ہے۔جس قدر کسی قوم کا باطن پاک وصاف ہو گا اور جیسے جیسے قومی اخلاق پر صفات الہی کا رنگ چڑھتا جائے گا اُسی قدر یہ تصویر زیادہ جاذب نظر اور دلکش بنتی چلی جائے گی۔یہ تصویر خود بخود قوم کے اخلاق بننے اور بگڑنے کے ساتھ ساتھ بنتی اور بگڑتی رہتی ہے اور قومی اخلاق کے بننے اور بگڑنے میں مذہبی علماء کے اخلاق کا غیر معمولی دخل ہوا کرتا ہے۔بڑی ہی قابل رشک اور خوش قسمت ہوتی ہے وہ قوم جس کے راہنماؤں کے اخلاق تقوی اللہ کی مضبوط اور غیر متزلزل چٹان پر قائم ہوں اس کے سوا ہر دوسری بنیاد نا قابل اعتماد ہے اور وہ قوم بڑی ہی بدقسمت ہوا کرتی ہے جس کے راہنماؤں کی اخلاقی اور نظریاتی عمارت اس چٹان پر قائم نہ ہو اور وہ عدل اور انصاف، امانت اور دیانت، وسیع