مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 102 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 102

مذہب کے نام پرخون مجبور ہیں اگر عقائد بگاڑ دیئے گئے ہوں اور دلائل اور اخلاق حسنہ اور قربانی اور دعا اور نصیحت اور صبر کے تمام ہتھیاروں کے ٹکڑے اڑ چکے ہوں تو اسلام تو بہر حال کسی طرح پھیلانا ہی ہے نا ! اللہ تعالیٰ نے بھی مختلف قسم کے جانور پیدا فرمائے ہیں۔بعض پرندے ہوتے ہیں جن کے پاس صرف پیار کے گیت ہوتے ہیں اور معصوم حسن کی بے آواز دعوتیں۔اور بعض درندے ہوتے ہیں جن کے پاس وحشت ناک حملوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔یہ امتزاج شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتے ہیں کہ ایک ہاتھ میں تلوار ہو اور ایک میں دعوتی کارڈ۔مجھے یاد ہے کہ ہائی کورٹ کے سامنے لارڈ لارنس کا ایک بت تھا جس کے ایک ہاتھ میں تلوار تھی اور دوسرے میں قلم یعنی قلم کی حکومت مانور نہ تلوار کی سزا پاؤ گے۔مگر فرق یہ ہے کہ اس کا تعلق محض ان لوگوں سے تھا جو پہلے ہی سے بزور تلوار اس کے محکوم بنائے جاچکے تھے۔اور قلم بھی ان ہی لوگوں کے لئے تھا جن کے لئے تلوار تھی مگر ایسا عجوبہ روزگار بت ابھی بننے کو ہے جس کے ایک ہاتھ میں ایک برہنہ چمکتی ہوئی تلوار ہو جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا دعوتی کارڈ بھی لڑکا ہوا ہو اور دوسرے ہاتھ میں محض ایک خوشنما مرصع دعوتی کارڈ ایک چاندی کی طشتری میں سجا ہوا ہو۔تلوار والا ہاتھ تو ایک نحیف وزار، نیم مرده، نیم زندہ مفلوک الحال شخص کی طرف اٹھا ہوا ہو اور طشتری والا ہاتھ دوسری سمت میں ایک دیو ہیکل تنومند، گرانڈیل جو ان کی خدمت عالیہ میں وہ چاندی کی طشتری پیش کر رہا ہو۔لیکن اس طشتری میں ایک چھوٹا سا کارڈ اگر اس مضمون کا بھی لکھ کر رکھ دیا جائے کہ حضور ابھی ہم کمزور ہیں جب طاقتور ہوں گے تو پھر حاضر خدمت ہوں گے تو اس بارہ میں کیا خیال ہے؟ لیکن اگر کہیں اندازہ میں غلطی ہوگئی اور انقلابی نظر نے دھوکہ کھایا۔کسی طاقت ور پر تلوار اٹھ گئی تو پھر ؟۔بہر حال مودودی صاحب کی اشاعت اسلام کا تصور یہ ہے اور اس بارہ میں خود مختار ہیں۔پابند تو ہم لوگ ہیں جنہیں کچھ بولنے کی اجازت نہیں اور اس تصور کا خلاصہ سیدھے سادھے الفاظ میں یہی ہے کہ چونکہ تم ہمارے ہمسایہ ہو اور ہمارا فرض ہے کہ ہر طرح سے تمہاری بہبود کا انتظام کریں اور بہر حال تمہیں ہلاکت سے بچائیں اس لئے ہمیں یہ حق پہنچتا ہے کہ اگر تمہیں اپنے سے کمزور پائیں تو