مذہب کے نام پر خون — Page 89
۸۹ مذہب کے نام پرخون انہوں نے فاش نوعیت کی بنیادی غلطیاں کی ہیں اس وقت ان کے ذکر کا یہاں موقع نہیں ورنہ ایک کتاب اندر کتاب بن جائے۔البتہ اس استدلال سے متعلق جو ابھی قارئین کی نظر سے گزرا ہے میں مولانا کی توجہ ایک چھوٹی سی فروگذاشت کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں جس کی درستی ان کے نظریہ استبداد میں مزید وسعتیں پیدا کرنے کا موجب ہوگی۔اس دلیل کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ ”ہر دین اپنے پیروؤں کی اولا دکو فطرتا اپنا پیر وقرار دیتا ہے۔اس لئے مسلمان کہلانے والوں کی اولاد (خواہ اس اولاد کے ماں باپ مودودی صاحب کی نظر میں عملاً کا فر ہی ہوں ) بہر حال اسلام کی جائداد کہلائے گی۔پس جب اسلام کی ملکیت ان پر ثابت ہو گئی تو سن بلوغت کے بعد انہیں کس طرح اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ جو چاہیں بن جائیں۔یہ نظریہ قائم فرماتے وقت غالباً مولانا کی نظر سے وہ ارشاد نبوی اوجھل رہ گیا تھا کہ :۔مَا مِنْ مُوْلُودٍ إِلَّا يُوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُبَوَّدَانِهِ أَوْ يُنَصِرَانِهِ أَوْ يُمحِسَانِه (البخاری) ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یہ اس کے ماں باپ کا دخل ہوتا ہے جو اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔اگر مولانا کا مذکورہ بالا استدلال درست ہے تو پھر اس کے نتیجہ کو مسلمان کہلانے والوں کی اولا د تک ہی کیوں محدود رکھا جائے۔ساری دنیا کے بچے اسلام کی وراثت ہیں ان کو کیوں اس سعادت سے محروم رہنے دیں اور کیوں ان کے ماں باپ کو یہ اختیار دے دیں کہ سن بلوغ تک پہنچنے سے پہلے پہلے انہیں ابتداء کفار یا اغیار کی حیثیت سے پرورش کریں۔تعجب ہے کہ یہ حدیث ان کی نظر سے کس طرح رہ گئی؟ یہ دلیل تو نعوذ باللہ تشدد پسندوں کی بنیادی دلیل ہونی چاہیے تھی کیونکہ اس کی پہنچ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ کفار تک بھی ممتد ہے اور دنیا کے کونے کونے میں ہر مذہب وملت ، ہر کالے گورے پر اس کا وار یکساں پڑتا ہے۔اگر نعوذ باللہ اس کے وہی معنی لئے جائیں جو مودودی طرز استدلال سے نکلتے ہیں تو پھر ایک بھی کافر بچہ ہاتھ سے نکل کر نہیں جاسکتا۔بہر حال میرا کام صرف توجہ دلا نا تھا آگے مولا نا کو اختیار ہے میں تو نہ انہیں زبر دستی کسی بات